لاہور: پاکستان کے اہم ترین فرسٹ کلاس کرکٹ مقابلے قائداعظم ٹرافی کے 69ویں ایڈیشن کا آغاز 3 نومبر سے ہوگا، جس کے پہلے راؤنڈ میں پاکستان ٹیسٹ کپتان بابر اعظم لاہور وائٹس کی نمائندگی کریں گے اور ان کا مقابلہ شاہین شاہ آفریدی کی قیادت میں فاٹا سے اسلام آباد کے ڈائمنڈ کرکٹ گراؤنڈ پر ہوگا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے گولڈ اور سلور دونوں مقابلوں کا شیڈول اور ٹیموں کے اسکواڈ جاری کر دیے ہیں۔

پی سی بی کے مطابق گولڈ ٹائر میں آٹھ علاقائی ٹیمیں حصہ لیں گی، جن میں دفاعی چیمپئن کراچی بلوز، فیصل آباد، فاٹا، لاہور وائٹس، اسلام آباد، پشاور بلوز، ملتان اور سیالکوٹ بلوز شامل ہیں۔ گولڈ مقابلے 3 نومبر سے 12 دسمبر تک جاری رہیں گے، جبکہ پانچ روزہ فائنل 15 سے 19 دسمبر تک کھیلا جائے گا۔

سلور ٹائر میں 12 ٹیمیں دو گروپس میں تقسیم کی گئی ہیں۔ گروپ اے میں لاہور بلوز، راولپنڈی، لاڑکانہ، کوئٹہ، بہاولپور اور پشاور وائٹس شامل ہیں، جبکہ گروپ بی میں کراچی وائٹس، آزاد جموں و کشمیر، حیدرآباد، ڈیرہ مراد جمالی، ایبٹ آباد اور سیالکوٹ وائٹس شامل ہوں گے۔ سلور مرحلے کے گروپ میچ 3 سے 30 نومبر تک ہوں گے اور دونوں گروپ فاتح ٹیموں کے درمیان فائنل 3 سے 7 دسمبر تک کھیلا جائے گا۔

پی سی بی نے تصدیق کی ہے کہ دونوں ٹائرز کے تمام میچوں کو فرسٹ کلاس درجہ حاصل ہوگا۔ گولڈ میں 29 اور سلور میں 31 میچ ہوں گے، یوں مجموعی طور پر 60 فرسٹ کلاس میچ شیڈول کیے گئے ہیں۔ سلور ٹائر کی فاتح ٹیم اگلے سیزن میں گولڈ ٹائر کے لیے ترقی حاصل کرے گی، جس سے نچلے درجے کی علاقائی ٹیموں کے لیے اعلیٰ سطح تک پہنچنے کا واضح راستہ فراہم کیا گیا ہے۔

ٹورنامنٹ میں کئی قومی کھلاڑی بھی مختلف علاقائی ٹیموں کی قیادت یا نمائندگی کریں گے۔ سعود شکیل دفاعی چیمپئن کراچی بلوز کے کپتان ہوں گے، محمد رضوان پشاور بلوز، امام الحق ملتان اور عبداللہ شفیق سیالکوٹ بلوز کی قیادت کریں گے۔ سلور مقابلے میں راولپنڈی کے اسکواڈ میں شاداب خان، حیدر علی، محمد نواز اور جہانداد خان شامل ہیں، جبکہ ایبٹ آباد میں فخر زمان اور کامران غلام کو جگہ دی گئی ہے۔

پی سی بی کے مطابق ٹیمیں گردشی روسٹر کے ساتھ کام کریں گی، جن میں 15 سفری ارکان ہوں گے اور ضرورت پڑنے پر ریزرو یا قومی ڈیوٹی پول سے کھلاڑی شامل کیے جا سکیں گے۔ گولڈ کے تمام میچ براہ راست نشر کیے جائیں گے، جبکہ سلور کے ہر راؤنڈ کے چھ میں سے چار میچوں کی لائیو اسٹریمنگ کا انتظام ہوگا۔

اس سیزن کی ایک نمایاں تبدیلی یہ بھی ہے کہ پشاور اور سیالکوٹ پہلی مرتبہ فرسٹ کلاس مقابلے میں دو دو علاقائی ٹیمیں میدان میں اتاریں گے۔ گولڈ اور سلور کی دو سطحی ساخت کے ذریعے پی سی بی نے علاقائی کرکٹ میں مسابقت اور ترقی کا راستہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔