کوئٹہ: بلوچستان حکومت نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت بڑھانے کے لیے موجودہ بس بیڑے میں مزید 17 الیکٹرک بسیں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق اس پیش رفت سے شہر میں چلنے والی گرین اور برقی بس سروس کی گنجائش میں اضافہ ہو گا اور مزید مسافروں کو منظم پبلک ٹرانسپورٹ تک رسائی مل سکے گی۔

حکام کو دی گئی بریفنگ کے مطابق کوئٹہ میں موجودہ سروس چار روٹس پر صبح سات بجے سے رات نو بجے تک چلائی جا رہی ہے۔ مختلف روٹس پر مسافروں کے لیے باقاعدہ بس اسٹاپ قائم کیے گئے ہیں۔ کچلاک روٹ پر تقریباً 40 اسٹاپ جبکہ میٹروپولیٹن علاقے کو سریاب روڈ سے ملانے والے راستے پر تقریباً 50 اسٹاپ قائم ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔

شہر میں ای بسوں کے اضافے کو پبلک ٹرانسپورٹ کی دستیابی کے ساتھ شہری ماحول اور ایندھن کے استعمال کے تناظر میں بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ برقی بسیں روایتی ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں مقامی سطح پر براہ راست دھوئیں کا اخراج نہیں کرتیں، اگرچہ ان کے مجموعی ماحولیاتی اثرات بجلی کی پیداوار کے ذرائع اور آپریشنل نظام پر منحصر ہوتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق گرین بس سروس کو بلوچستان کے دوسرے شہر تربت تک بھی توسیع دی گئی ہے، جہاں اس وقت چار بسیں چل رہی ہیں۔ یہ توسیع اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ صوبائی حکومت شہری ٹرانسپورٹ کے ماڈل کو صرف کوئٹہ تک محدود رکھنے کے بجائے دیگر آبادیوں تک لے جانے کی کوشش کر رہی ہے۔

کوئٹہ میں آبادی کے پھیلاؤ، روزانہ سفر کی بڑھتی ضروریات اور نجی گاڑیوں پر انحصار کے باعث قابل اعتماد پبلک ٹرانسپورٹ طویل عرصے سے شہری منصوبہ بندی کا اہم مسئلہ رہا ہے۔ اضافی بسوں کی شمولیت سے روٹس پر انتظار کا وقت کم کرنے اور مسافر گنجائش بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم اس کا عملی اثر بسوں کی تعیناتی، چارجنگ انفراسٹرکچر، دیکھ بھال اور روٹ مینجمنٹ پر منحصر ہو گا۔

دستیاب رپورٹ میں نئی 17 بسوں کے مکمل روٹ شیڈول یا سروس شروع ہونے کی حتمی تاریخ کی تفصیل نہیں دی گئی۔ متعلقہ حکام کی جانب سے عملی تعیناتی کا منصوبہ سامنے آنے کے بعد یہ واضح ہو گا کہ نئی بسیں کن علاقوں اور اوقات میں چلائی جائیں گی۔