راولپنڈی اور اسلام آباد میں بارش کے بعد راول ڈیم میں پانی کی سطح 1,752 فٹ تک پہنچنے پر اس کے اسپل ویز کھول دیے گئے ہیں۔ ڈان کی 5 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق یہ رواں مون سون کے دوران چھٹا موقع تھا جب جھیل بھرنے کے بعد اضافی پانی خارج کرنے کے لیے اسپل ویز کھولے گئے۔ کارروائی جمعہ کی صبح کی گئی اور پانی چھوڑنے سے پہلے تقریباً 30 منٹ تک سائرن بجائے گئے تاکہ زیریں علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو خبردار کیا جاسکے۔
محکمہ آبپاشی کے سب ڈویژنل افسر اعجاز احمد نے بتایا کہ ڈیم اپنی مقررہ سطح تک بھر گیا تھا، اس لیے اضافی پانی کا اخراج ضروری ہوگیا۔ ان کے مطابق پیشگی سائرن کا مقصد خاص طور پر کورنگ نالہ کے کناروں اور زیریں بہاؤ میں موجود افراد کو متنبہ کرنا تھا۔ حکام نے شہریوں سے کہا کہ پانی کے اخراج کے دوران نالے میں نہانے، ماہی گیری کرنے یا پانی کے قریب غیر ضروری طور پر جانے سے گریز کریں کیونکہ اچانک تیز بہاؤ جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ حفاظتی انتباہ تھا؛ رپورٹ میں اس اخراج کے نتیجے میں کسی ہلاکت یا مخصوص نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی۔
بارش جمعہ کی صبح شروع ہوئی اور تقریباً دو گھنٹے تک ہلکی سے معتدل شدت کے ساتھ جاری رہی۔ محکمہ موسمیات کے اعداد کے مطابق اسلام آباد کے سیدپور میں 28 ملی میٹر، گولڑہ میں 21 ملی میٹر، زیرو پوائنٹ پر 10 ملی میٹر اور بوکرہ میں ایک ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔ راولپنڈی میں شمس آباد میں 10 ملی میٹر، چکلالہ میں سات، گوالمنڈی میں پانچ، نیو کٹاریاں میں چار اور پیرودھائی میں ایک ملی میٹر بارش ہوئی۔ کچہری چوک سے روات ٹی چوک تک کے علاقے میں بارش رپورٹ نہیں ہوئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بارش کی تقسیم یکساں نہیں تھی۔
بارش نے راول جھیل کے ساتھ نالہ لئی اور دیگر شہری نکاسی آب کے نظام پر بھی دباؤ بڑھایا۔ رپورٹ کے مطابق جڑواں شہروں کے بعض علاقے پانی سے متاثر ہوئے، تاہم دستیاب خبر میں متاثرہ گھروں، سڑکوں یا افراد کی مکمل تعداد نہیں دی گئی۔ اس لیے اس واقعے کو پورے شہر میں یکساں سیلاب یا بڑے پیمانے کی تباہی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ مقامی اثرات کا تعین ضلعی انتظامیہ اور امدادی اداروں کے تفصیلی اعداد سے ہوگا۔
محکمہ موسمیات نے اگلے 24 گھنٹوں کے دوران اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت مختلف بالائی علاقوں میں مزید بارش، آندھی اور گرج چمک کا امکان ظاہر کیا تھا۔ پیش گوئی میں کہا گیا کہ اسلام آباد، راولپنڈی، مردان، صوابی، پشاور، گوجرانوالہ، گجرات، لاہور اور سیالکوٹ کے نشیبی حصوں میں شدید سے بہت شدید بارش کے باعث شہری سیلاب پیدا ہوسکتا ہے۔ یہ موسمی امکان اور حفاظتی انتباہ تھا، تصدیق شدہ مستقبل کا واقعہ نہیں؛ بارش کی حقیقی مقدار اور اثرات بعد کے مشاہدات سے طے ہوتے ہیں۔
راول ڈیم کے اسپل ویز کھولنا پانی ذخیرہ کرنے والے نظام کا معمول کا حفاظتی اقدام ہے، مگر اس کے ساتھ زیریں آبادیوں کو بروقت اطلاع، محفوظ فاصلے کی پابندی اور ندی نالوں میں تفریحی سرگرمی روکنا ضروری ہوتا ہے۔ اس مون سون میں چھ مرتبہ اسپل ویز کھلنے سے جھیل میں بار بار بلند پانی کی سطح سامنے آئی ہے، تاہم ہر اخراج کی مدت اور مقدار دستیاب رپورٹ میں الگ سے بیان نہیں کی گئی۔
فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ بارش کے بعد راول ڈیم 1,752 فٹ کی سطح تک پہنچا، اسپل ویز چھٹی بار کھولے گئے اور پیشگی سائرن کے ذریعے کورنگ نالہ کے قریب رہنے والوں کو خبردار کیا گیا۔ شہریوں کے لیے فوری احتیاط پانی کے بہاؤ، نالوں اور اسپل وے کے قریب جانے سے گریز اور ضلعی انتظامیہ و محکمہ موسمیات کی تازہ ہدایات پر عمل کرنا ہے۔




