وفاقی حکومت نے راولپنڈی میں حساس سکیورٹی ذمہ داریوں کے لیے پاکستان آرمی کی تین کمپنیاں چھ ماہ کی مدت تک تعینات کرنے کی اجازت دی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق وزارتِ داخلہ کا حکم 21 اگست کو جاری ہوا اور یہ اقدام پنجاب کے محکمہ داخلہ کی درخواست پر کیا گیا۔ حکم میں تعیناتی کا مقصد کسی ناپسندیدہ صورتِ حال سے بچاؤ اور ضلع انتظامیہ کی ضرورت کے مطابق غیر متوقع حالات میں مؤثر ردعمل دینا بتایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے یہ منظوری آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت دی، جو مسلح افواج کو سول اقتدار کی معاونت کے لیے طلب کرنے سے متعلق ہے۔ حکم میں راولپنڈی ضلع کو دائرۂ کار بنایا گیا ہے اور مدت فوری طور پر شروع ہونے والی چھ ماہ درج کی گئی ہے۔ تاہم دستیاب رپورٹ میں تعیناتی کے مخصوص مقامات، روزانہ ذمہ داریوں یا کسی خاص پروگرام کا نام نہیں دیا گیا، اس لیے اسے کسی غیر اعلان شدہ واقعے سے جوڑنا درست نہیں ہوگا۔
تین کمپنیوں کی تعیناتی کا مطلب یہ ہے کہ فوجی اہلکار ضلع انتظامیہ اور سول قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت کے لیے دستیاب ہوں گے۔ عملی کمان، رسپانس پروٹوکول، نقل و حرکت اور ذمہ داریوں کی تقسیم متعلقہ حکام کے انتظامی احکامات کے تحت ہوگی۔ خبر میں یہ نہیں کہا گیا کہ پولیس یا دیگر سول اداروں کا کردار ختم یا تبدیل کیا گیا ہے؛ بنیادی قانونی و انتظامی ذمہ داریاں بدستور انہی اداروں کے پاس رہتی ہیں۔
حساس سکیورٹی فرائض کی اصطلاح وسیع ہے، اس لیے شہریوں کے لیے درست بات یہی ہے کہ سرکاری حکم کی بیان کردہ مدت اور قانونی بنیاد تک معلومات محدود رکھی جائیں۔ کسی خطرے، احتجاج، مذہبی سرگرمی یا سیاسی اجتماع کے بارے میں قیاس آرائی رپورٹ میں موجود نہیں۔ آئندہ اگر وزارتِ داخلہ، پنجاب حکومت یا ضلع انتظامیہ کوئی اضافی تفصیل جاری کرتی ہے تو تعیناتی کے عملی دائرے کی مزید وضاحت ہوسکے گی۔
یہ پیش رفت راولپنڈی کے انتظامی اور سکیورٹی بندوبست میں ایک عارضی معاون قدم ہے، مستقل ادارہ جاتی تبدیلی نہیں۔ چھ ماہ کے اختتام، توسیع یا قبل از وقت واپسی کے بارے میں بھی الگ سرکاری حکم درکار ہوگا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




