اردو ہیڈلائنز ڈیسک
راولپنڈی میں حنا جاوید کی مشتبہ موت کے معاملے پر پولیس تحقیقات جاری ہیں، جبکہ خاتونِ اول اور رکن قومی اسمبلی آصفہ بھٹو زرداری نے واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب حکومت سے مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ 23 اگست کو سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق انہوں نے سوگوار خاندان سے تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ واقعے میں جو بھی افراد قانوناً ذمہ دار ثابت ہوں، انہیں قانون کے مطابق جواب دہ بنایا جائے۔
ایکسپریس اردو کی رپورٹ میں آصفہ بھٹو زرداری کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ خواتین کے خلاف سنگین تشدد کے واقعات تشویش ناک ہیں اور ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔ اردوپوائنٹ پر شائع اے پی پی کی خبر کے مطابق ایوانِ صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان میں بھی خاتونِ اول نے پنجاب حکومت پر زور دیا کہ واقعے کی مکمل چھان بین اور شفاف تحقیقات یقینی بنائی جائیں۔
حنا جاوید کی موت سے متعلق فوجداری ذمہ داری تاحال عدالت میں ثابت نہیں ہوئی۔ ڈان اور عرب نیوز کی رپورٹس کے مطابق حنا جاوید راولپنڈی کے لال کرتی علاقے میں واقع عسکری اپارٹمنٹس کے ایک فلیٹ میں مردہ پائی گئیں۔ پولیس ریکارڈ اور مدعی کے مؤقف کے مطابق لاش باتھ روم سے ملی اور واقعے کے حالات نے قتل کی تفتیش کو جنم دیا۔ مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی قتل اور مشترکہ نیت سے متعلق دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔
متاثرہ خاندان نے حنا جاوید کے شوہر، گھریلو ملازم اور سسر پر واقعے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے، تاہم یہ الزامات ابھی تحقیقاتی اور عدالتی عمل سے گزر رہے ہیں۔ عرب نیوز کے مطابق راولپنڈی پولیس کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ شوہر فیصل اصغر امام اور گھریلو ملازم ذیشان ارشد کو تفتیش کے لیے پولیس تحویل میں لیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم، فرانزک اور ڈی این اے نتائج سمیت شواہد کا جائزہ لے کر آئندہ قانونی کارروائی طے کی جائے گی۔
ڈان نے رپورٹ کیا کہ پولیس ترجمان کے مطابق شوہر اور ملازم کو قتل کے مقدمے سے متعلق حراست میں لیا گیا جبکہ سسر سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب خاندان نے مطالبہ کیا ہے کہ سسر کے کردار کی بھی مکمل تحقیقات کی جائیں۔ پولیس نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی شخص کے خلاف کارروائی شواہد اور تفتیش کی بنیاد پر ہوگی۔
ایکسپریس اردو نے ایف آئی آر کے حوالے سے مقتولہ کے بھائی کے الزامات بھی رپورٹ کیے ہیں کہ حنا جاوید کو شادی کے دوران تشدد کا سامنا رہا۔ عرب نیوز نے بھی خاندان کے حوالے سے ماضی میں مبینہ گھریلو تشدد کی شکایات کا ذکر کیا ہے۔ ان دعوؤں کی آزاد عدالتی تصدیق ابھی نہیں ہوئی، اس لیے انہیں خاندان اور مقدمے کے مدعی کے الزامات کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے۔
حنا جاوید کی موت کا حتمی سبب اور کسی فرد کی قانونی ذمہ داری پوسٹ مارٹم، فرانزک شواہد، پولیس تفتیش اور عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوگی۔ اردو ہیڈلائنز اس مقدمے میں آئندہ سرکاری یا عدالتی پیش رفت سامنے آنے پر خبر کو اپ ڈیٹ کرے گا۔




