راولپنڈی کی تحصیل کلر سیداں کے ایک مدرسے میں زیرِ تعلیم 9 سالہ طالب علم کی موت کے بعد مبینہ تشدد کی تحقیقات کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ایکسپریس اردو نے پولیس ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ بچے کی شناخت محمد فیضان کے نام سے ہوئی، اس کا تعلق بھکر سے تھا اور وہ کلر سیداں کے گاؤں نلہ مسلماناں میں قائم مدرسے میں تعلیم حاصل کر رہا تھا۔

رپورٹ کے مطابق بچے کو طبیعت خراب ہونے کا کہہ کر ڈسٹرکٹ اسپتال منتقل کیا گیا اور اس کے والدین کو بھی اطلاع دی گئی، تاہم والدین کے پہنچنے سے پہلے وہ دم توڑ چکا تھا۔ یہ اطلاع مدرسے سے منسلک افراد اور پولیس ذرائع سے منسوب ابتدائی بیان کا حصہ ہے؛ خبر میں کسی طبی بورڈ یا پوسٹ مارٹم رپورٹ کا حتمی نتیجہ بیان نہیں کیا گیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق والدین بچے کی میت اپنے آبائی گاؤں لے گئے۔ غسل کے دوران انہوں نے جسم پر ایسے نشانات دیکھے جنہیں انہوں نے تشدد کے نشانات سمجھا، جس کے بعد پولیس سے رابطہ کیا گیا اور لاش دوبارہ کلر سیداں لائی گئی۔ تھانہ کلر سیداں پولیس نے لاش تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کرایا ہے۔ پوسٹ مارٹم کا ہونا تفتیشی عمل کی ایک پیش رفت ہے، مگر اس کے نتائج رپورٹ میں شامل نہیں، اس لیے موت کی طبی وجہ ابھی حتمی طور پر طے شدہ نہیں کہی جاسکتی۔

ایکسپریس اردو کے مطابق مدرسے کا قاری ثنا اللہ واقعے کے بعد موقع سے فرار ہوگیا۔ یہ بھی پولیس ذرائع سے منسوب اطلاع ہے۔ کسی شخص کا فرار بتایا جانا بذاتِ خود جرم ثابت ہونے یا عدالتی ذمہ داری متعین ہونے کے برابر نہیں؛ ممکنہ ذمہ داری کا فیصلہ شواہد، طبی رپورٹ، متعلقہ افراد کے بیانات اور قانونی کارروائی کے بعد ہوگا۔

اس مرحلے پر قابلِ تصدیق نکات بچے کی شناخت، مدرسے میں زیرِ تعلیم ہونا، اسپتال منتقلی، والدین کی جانب سے جسم پر نشانات دیکھنے کی اطلاع، پولیس کا لاش واپس لا کر پوسٹ مارٹم کرانا اور قاری کے فرار کی رپورٹ تک محدود ہیں۔ خبر میں مقدمے کے اندراج، گرفتاری، پوسٹ مارٹم کے تحریری نتائج یا کسی عدالت کے حکم کی تفصیل موجود نہیں، اس لیے ان امور کے بارے میں کوئی اضافی دعویٰ نہیں کیا جاسکتا۔

بچے کی موت ایک حساس اور زیرِ تفتیش واقعہ ہے۔ آئندہ معتبر پیش رفت پوسٹ مارٹم رپورٹ، پولیس کی تحریری کارروائی اور متعلقہ حکام کے تصدیق شدہ بیان سے واضح ہوگی۔ اس وقت مبینہ تشدد کو الزام اور ابتدائی تفتیشی زاویے کے طور پر ہی بیان کیا جارہا ہے، ثابت شدہ عدالتی نتیجے کے طور پر نہیں۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک