راولپنڈی: راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کی تعمیراتی لاگت ایک بار پھر بڑھ کر 50.4 ارب روپے ہوگئی ہے، جبکہ سڑک کے ٹول پلازوں اور متعلقہ الیکٹرانک نظام کا کام ابھی مکمل نہیں ہوسکا۔ صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی نے لاہور میں ہونے والے اجلاس میں منصوبے کا تیسرا نظرثانی شدہ پی سی ون منظور کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ سڑک نومبر کے پہلے یا دوسرے ہفتے میں ٹریفک کے لیے کھولنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

منصوبے کی مجموعی لمبائی 38.3 کلومیٹر ہے اور اس کے لیے 8,992 کنال زمین تقریباً 6.7 ارب روپے میں حاصل کی گئی۔ یہ زمین حاصل کرنے کی لاگت تعمیراتی منصوبے کی 50.4 ارب روپے کی منظور شدہ رقم میں شامل نہیں۔ اگر زمین کی قیمت بھی شامل کی جائے تو مجموعی مالی حجم تقریباً 57 ارب روپے تک پہنچتا ہے۔

رنگ روڈ کے ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر اشفاق سلہری کے مطابق مرکزی سڑک کا 38.3 کلومیٹر حصہ مکمل ہے، تاہم بانٹھ اور ٹھلیاں کے مقامات پر ٹول پلازا بوتھ بنائے جا رہے ہیں۔ پنجاب رنگ روڈ اتھارٹی کو انٹیلیجنٹ ٹرانسپورٹیشن سسٹم اور الیکٹرانک ٹول کلیکشن کی تنصیب کے لیے مزید تقریباً دو ہفتے درکار ہیں۔ دونوں اطراف باڑ اور ہارٹیکلچر کا کام مکمل ہونے کا بھی بتایا گیا ہے۔

منصوبے کی لاگت اس سے پہلے 33 ارب روپے سے بڑھ کر 47 ارب روپے کی گئی تھی۔ تیسری نظرثانی میں تعمیراتی مواد کی قیمتوں، ٹول پلازوں کے ڈیزائن اور ٹھلیاں انٹرچینج سے متعلق تبدیلیوں کو اضافی لاگت کے عوامل میں شمار کیا گیا۔ حکام کے مطابق تعمیراتی مواد میں 38 فیصد تک اضافی لاگت منظور کی گئی، جبکہ منصوبہ جاتی ادارے نے اس سے زیادہ اضافے کی درخواست کی تھی۔

رنگ روڈ چھ لین پر مشتمل کنٹرولڈ ایکسس شاہراہ ہوگی جس کی ڈیزائن رفتار 120 کلومیٹر فی گھنٹہ رکھی گئی ہے۔ منصوبے میں پانچ انٹرچینجز، دریاؤں پر دو پل، نالوں اور سڑکوں پر 12 پل، ایک ریلوے پل اور 11 اوورپاس شامل ہیں۔ حکام کا موجودہ ہدف نومبر کے آغاز میں ٹریفک کھولنا ہے، تاہم یہ متوقع تاریخ ہے اور حتمی افتتاح باقی کام کی تکمیل اور سرکاری فیصلے سے مشروط ہوگا۔