اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے پمز ہسپتال کی آتشزدگی کے دوران ایک نومولود کی جان بچانے والی نرس رضیہ نورین کے لیے سول اعزاز تمغۂ خدمت اور ایک کروڑ روپے کے مالی انعام کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم نے رضیہ نورین سے ملاقات میں ان کی بہادری اور مشکل حالات میں ذمہ داری نبھانے کو سراہا اور کہا کہ قوم ان کے اقدام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
اعلان کے مطابق رضیہ نورین کو 23 مارچ 2027 کو پاکستان ڈے کے موقع پر تمغۂ خدمت سے نوازا جائے گا۔ وزیراعظم نے ایک کروڑ روپے انعام کا بھی ذکر کیا۔ یہ اعزاز 26 اگست کو پمز کے گائناکالوجی وارڈ میں پیش آنے والی آتشزدگی کے دوران ان کے امدادی کردار کے اعتراف میں دیا جا رہا ہے۔ اس حادثے میں 15 نومولود موجود تھے اور 14 بچوں کی جان گئی، جبکہ ایک بچے کو بچایا گیا۔
پمز واقعے کی عبوری تحقیق میں دستیاب سی سی ٹی وی شواہد کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ فرنٹ لائن طبی عملے نے فوری امدادی کوششیں کیں اور عمومی طور پر بچوں کو چھوڑ دینے کا الزام فوٹیج سے ثابت نہیں ہوتا۔ اسی پس منظر میں رضیہ نورین کی انفرادی کارروائی کو سرکاری سطح پر نمایاں کیا گیا ہے۔ دوسری طرف ہسپتال کی فائر سیفٹی اور ادارہ جاتی تیاری میں خامیوں کی الگ تحقیقات جاری ہیں، اس لیے کسی فرد کی بہادری کے اعتراف اور انتظامی ذمہ داری کے تعین کو الگ معاملات سمجھنا ضروری ہے۔
سول اعزاز کا اعلان ریاستی سطح پر خدمات کے اعتراف کا طریقہ ہے، جبکہ مالی انعام فوری حکومتی پذیرائی کی علامت ہے۔ وزیراعظم نے ملاقات میں پمز آتشزدگی کو انتہائی تکلیف دہ واقعہ قرار دیتے ہوئے ذمہ دار پائے جانے والوں کے خلاف کارروائی کا بھی حوالہ دیا۔ رضیہ نورین کے اعزاز سے متعلق بنیادی تصدیق وزیراعظم کے اعلان اور معتبر میڈیا رپورٹنگ سے ہوتی ہے؛ اعزاز کی باقاعدہ تقریب مقررہ تاریخ پر ہوگی۔




