سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہفتہ 10 اکتوبر کو ہونے والے حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 309 زخمی ہوگئے۔ سعودی شہری ہوا بازی کے حکام کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق متعدد زخمیوں کی حالت تشویش ناک تھی۔ واقعے کے بعد ہوائی اڈے پر پروازوں کی آمدورفت عارضی طور پر معطل کر کے سہولتوں اور مسافروں کی سلامتی کا جائزہ لیا گیا۔
حکام نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں چار سعودی، دو بنگلہ دیشی اور امریکا، مصر، اردن، شام، فلسطین اور سوڈان کا ایک ایک شہری شامل تھا۔ یہ تفصیل حملے کے انسانی اثرات اور مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے مسافروں اور کارکنوں کی موجودگی کو ظاہر کرتی ہے۔ طبی اداروں کو زخمیوں کے علاج کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے پڑے اور مقامی طبی ذرائع کے مطابق ڈاکٹروں کو فوری طور پر ڈیوٹی پر بلایا گیا۔
سعودی قیادت والے اتحاد نے حملے کی ذمہ داری یمن کے حوثی گروہ پر عائد کی ہے۔ اتحاد کے ترجمان نے شہری ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کی مذمت کی اور اسے جنگی جرم قرار دیا۔ ایک سفارتی ذریعے نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ حملے میں میزائل استعمال ہوا تھا۔ تاہم حوثیوں کی جانب سے ہفتے کے اس مخصوص حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان رپورٹ میں سامنے نہیں آیا، اس لیے ذمہ داری کے دعوے کو سعودی اتحاد کے مؤقف کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔
فضائی آمدورفت کی نگرانی کرنے والے ادارے فلائٹ ریڈار 24 کے حوالے سے بتایا گیا کہ بڑی تعداد میں پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہوئیں اور بعض طیاروں کو دوسرے ہوائی اڈوں، بالخصوص جدہ، کی جانب موڑا گیا۔ مختلف ممالک کے سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو متاثرہ ہوائی اڈے کے قریب جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی۔
یہ واقعہ یمن میں دوبارہ شدت اختیار کرنے والی لڑائی اور سعودی عرب پر حالیہ حملوں کے تناظر میں پیش آیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس حملے پر ردعمل دیا، جبکہ سعودی اتحاد نے فیصلہ کن جواب دینے کا عندیہ دیا۔ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث شہریوں کی سلامتی، بین الاقوامی پروازوں اور سفارتی کوششوں کے مستقبل سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
