واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے 9 اکتوبر 2026 کو بین الاقوامی فوجداری عدالت، آئی سی سی، کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ روئٹرز کے مطابق یہ اقدام عدالت کے انفرادی عہدیداروں کے بجائے ادارے کو مجموعی طور پر نشانہ بناتا ہے اور اس کے ساتھ مالی اور کاروباری لین دین کرنے والی کمپنیوں پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پابندیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن امریکی شہریوں کے خلاف عدالت کی کارروائیوں کو قبول نہیں کرے گا۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ابتدائی چھ ماہ کی رعایتی مدت اور بعض استثنائی انتظامات کا اعلان کیا۔ ان استثناؤں میں ٹیلی مواصلات، سافٹ ویئر، پنشن کی ادائیگی اور زیر حراست افراد سے متعلق کچھ معاملات شامل ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پابندیوں کا ہر جزو فوری اور یکساں انداز میں نافذ نہیں ہوگا۔
عالمی فوجداری عدالت نے فیصلے کو بین الاقوامی قانونی نظام اور قانون کی حکمرانی پر حملہ قرار دیا اور اپنے رکن ممالک سے ادارے کے دفاع کی اپیل کی۔ عدالت کی نائب پراسیکیوٹر نذہت شمیم خان نے روئٹرز کو بتایا کہ عدالت کی تحقیقات اور استغاثہ کا کام جاری رہے گا۔ یہ عدالت کا مؤقف ہے، جبکہ امریکی حکومت اپنے فیصلے کو قومی خودمختاری اور اپنے شہریوں کے تحفظ سے جوڑتی ہے۔
آئی سی سی 2002 میں جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی جیسے سنگین بین الاقوامی جرائم کی تحقیقات اور مقدمات کے لیے قائم کی گئی تھی۔ امریکہ نے اس کے قیام کے معاہدے پر ابتدائی دستخط کیے تھے مگر اس کی توثیق نہیں کی۔ واشنگٹن کو اسرائیلی حکام کے خلاف عدالتی وارنٹس اور افغانستان میں امریکی فوجیوں سے متعلق تحقیقات پر بھی اعتراض رہا ہے۔ ان معاملات میں الزام، تفتیش، وارنٹ اور حتمی مجرمانہ فیصلہ ایک دوسرے سے الگ قانونی مراحل ہیں۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس نے کہا کہ چھ ماہ کی مہلت مذاکرات کا موقع فراہم کرتی ہے، جبکہ یورپی ممالک عدالت کے کام کو جاری رکھنے کے لیے اقدامات پر غور کرسکتے ہیں۔ بیلجیئم کے وزیر خارجہ نے یورپی سطح پر قانونی تحفظات فعال کرنے کی تجویز دی۔
پابندیوں کے اعلان سے چند گھنٹے پہلے آئی سی سی کی سابق جج ناوی پلّے کو نوبیل امن انعام دیا گیا تھا۔ روئٹرز کے مطابق عدالت پہلے ہی ممکنہ پابندیوں کے پیش نظر سافٹ ویئر، بینکاری اور انشورنس کے متبادل انتظامات کی تیاری کر رہی تھی۔ آنے والے مہینوں میں پابندیوں کا حقیقی اثر ان کے نفاذ، استثناؤں اور رکن ممالک کے ردعمل سے واضح ہوگا۔
