خلیج عمان: امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے ایک لڑاکا طیارے نے ہفتہ 10 اکتوبر 2026 کو خلیج عمان میں ایک تجارتی بحری جہاز کو نشانہ بنا کر اس کی نقل و حرکت کی صلاحیت ختم کردی۔ روئٹرز کی 11 اکتوبر کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ، سینٹکام، نے کہا کہ جہاز نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی سے متعلق تنبیہات نظر انداز کی تھیں۔

سینٹکام کے بیان کے مطابق پاناما کے پرچم بردار ایم وی اوشن مولیکا، جسے آریکا سن کے نام سے بھی شناخت کیا گیا، کے پچھلے حصے پر ایک مخصوص ہدف کو نشانہ بنانے والا ہتھیار استعمال کیا گیا۔ امریکی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس کارروائی سے جہاز کی انجن سے چلنے کی صلاحیت مکمل طور پر بند ہوگئی جبکہ عملے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ یہ معلومات امریکی فوج کے بیان پر مبنی ہیں اور روئٹرز اس وقت جہاز کے آپریٹر سے آزادانہ مؤقف حاصل نہیں کرسکا تھا۔

امریکی کمانڈ کے مطابق جہاز ایک ایرانی بندرگاہ سے روانہ ہونے کے بعد علاقائی پانیوں سے گزرنے کی کوشش کررہا تھا۔ فوج نے خلیج عمان اور آبنائے ہرمز کے قریب سفر کرنے والے بحری جہازوں کو ہدایت کی کہ وہ ناکہ بندی کے انتباہات پر توجہ دیں، سمندری اطلاعات کی نگرانی کریں اور امریکی بحری فورسز سے رابطے میں رہیں۔

اس واقعے کے قانونی اور سفارتی پہلو اہم ہیں کیونکہ تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت، بحری ناکہ بندی اور طاقت کے استعمال کے بارے میں مختلف ممالک کے مؤقف میں اختلاف ہوسکتا ہے۔ امریکی فوج نے کارروائی کی وجہ ناکہ بندی کی مبینہ خلاف ورزی بتائی ہے، تاہم اس خبر میں جہاز کے مالک، آپریٹر یا متعلقہ پرچم بردار ریاست کا جواب شامل نہیں تھا۔ اس لیے خلاف ورزی کے دعوے کو غیر جانبدار عدالتی فیصلے کے برابر نہیں سمجھا جاسکتا۔

روئٹرز کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت دو ماہ سے زیادہ عرصے کی کم ترین سطح پر آگئی ہے۔ گزشتہ ہفتے تیل بردار جہازوں پر حملوں میں اضافے کے بعد اس اہم سمندری راستے پر تجارت کے خطرات بڑھ گئے۔ جنگ سے پہلے اس آبنائے سے دنیا کی تیل کی کھپت کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل گزرتا تھا۔

موجودہ کشیدگی میں جہاز رانی کی حفاظت، بیمے کے اخراجات اور توانائی کی عالمی رسد پر اثرات کا خدشہ ہے۔ فوری طور پر اوشن مولیکا کے عملے کی آزادانہ تصدیق شدہ صورت حال، جہاز کی مرمت یا اگلے قانونی اقدامات کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔