سکھر: روہڑی بائی پاس پر قومی شاہراہ کے ساتھ الخادم پٹرول پمپ کے قریب ایل پی جی ٹینکر میں شدید دھماکے کے نتیجے میں تین افراد جاں بحق اور چھ زخمی ہو گئے۔ حکام کے مطابق دھماکا اتنا طاقتور تھا کہ ٹینکر کے ٹکڑے ہو گئے اور آس پاس موجود چھ سے زائد بھاری گاڑیوں، جن میں ٹرک اور ٹریلر شامل تھے، کو نقصان پہنچا۔
ابتدائی سرکاری معلومات کے مطابق ٹینکر کا ڈرائیور اور کلینر دھماکے کے فوراً بعد جاں بحق ہو گئے۔ قریب موجود ایک اور ٹریلر کا ڈرائیور بھی جانبر نہ ہو سکا۔ متعدد ڈرائیور اور کلینر زخمی ہوئے، جن میں سے چار کی حالت تشویشناک بتائی گئی اور انہیں مزید علاج کے لیے سکھر سول اسپتال منتقل کیا گیا۔
پولیس، موٹروے حکام اور ریسکیو 1122 کی ٹیمیں واقعے کی اطلاع ملتے ہی جائے حادثہ پر پہنچیں۔ ابتدائی طور پر متاثرین کو روہڑی تعلقہ اسپتال لے جایا گیا، جہاں طبی عملے نے زخمیوں کو ابتدائی امداد فراہم کی۔ بعض زخمیوں کی شناخت فدا حسین، عمر حیات، محمد شاہد اور کامران کے نام سے ہوئی، جبکہ جاں بحق افراد کی مکمل شناخت فوری طور پر سامنے نہیں آ سکی۔
ضلع کونسل سکھر کے چیئرمین سید کمیل حیدر شاہ، ڈپٹی کمشنر نادر خان شہزاد اور ایس ایس پی سکھر احمد چوہدری نے جائے حادثہ کا دورہ کیا۔ ضلعی حکام نے کہا کہ زخمیوں کے علاج کے انتظامات کیے جا رہے ہیں اور ضرورت پڑنے پر شدید زخمی افراد کو نجی اسپتال یا دوسرے شہر منتقل کرنے کے لیے ایئر ایمبولینس کے استعمال کا انتظام بھی کیا جا سکتا ہے۔
ضلع کونسل کے چیئرمین نے قومی شاہراہ اور موٹروے انٹرچینجز کے قریب ریسکیو 1122 مراکز قائم کرنے کے منصوبے کا بھی ذکر کیا تاکہ بڑے حادثات کی صورت میں امدادی کارروائی کا وقت کم کیا جا سکے۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق حکام ٹینکر کے سفر کے آغاز اور دھماکے کی وجہ کے بارے میں تحقیقات کر رہے ہیں۔
ایس ایس پی سکھر نے بتایا کہ متاثرہ شاہراہ پر ٹریفک بحال کر دی گئی ہے، جبکہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی ٹیم نے بھی جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے۔ سی ٹی ڈی کی موجودگی بذات خود کسی دہشت گردی کے سبب کی تصدیق نہیں کرتی؛ دھماکے کی حتمی وجہ تحقیقات کے بعد ہی طے ہوگی۔ حکام نے ابھی یہ واضح نہیں کیا کہ واقعہ کسی فنی خرابی، لیکیج، حادثاتی آگ یا کسی دوسرے سبب سے پیش آیا۔ اس لیے ذمہ داری یا دھماکے کے بنیادی سبب سے متعلق نتیجہ تفتیش مکمل ہونے سے پہلے اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
