بخارسٹ: رومانیہ کی پارلیمنٹ نے آزاد سیاست دان اور سفارت کار لوکا نیکولیسکو کو وزیر اعظم کے عہدے کے لیے اعتماد کا ووٹ دے دیا ہے، جس سے ملک میں تقریباً چھ ماہ سے جاری سیاسی تعطل کے خاتمے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق 55 سالہ نیکولیسکو نے بائیں بازو کی سیاسی قوتوں اور ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ایک اقلیتی حکومت تشکیل دی ہے۔

نیکولیسکو کو وسط پسند صدر نیکوشور دان نے وزیر اعظم کے لیے نامزد کیا تھا۔ پارلیمانی توثیق اس عمل کا اہم آئینی مرحلہ تھی، کیونکہ نئی حکومت کو کام شروع کرنے کے لیے قانون سازوں کی حمایت درکار تھی۔ اعتماد کا ووٹ ایسے وقت آیا جب طویل سیاسی غیر یقینی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا اور رومانیہ کی سرمایہ کاری کے قابل کریڈٹ ریٹنگ پر دباؤ بڑھنے کے خدشات پیدا کیے تھے۔

نئی حکومت کے سامنے سب سے فوری چیلنج مالیاتی نظم و ضبط اور سیاسی استحکام بحال کرنا ہوگا۔ اقلیتی حکومت ہونے کی وجہ سے اسے اہم قوانین، بجٹ اور اصلاحات منظور کرانے کے لیے پارلیمنٹ میں اپنی مستقل اکثریت سے باہر بھی حمایت تلاش کرنا پڑ سکتی ہے۔ یہ صورتحال پالیسی سازی کو مذاکرات اور سیاسی سمجھوتوں سے جوڑ دے گی۔

رومانیہ یورپی یونین اور نیٹو کا رکن ہے، اس لیے بخارسٹ میں سیاسی استحکام یورپی سطح پر بھی اہمیت رکھتا ہے۔ ملک کو سرکاری مالیات، سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے اور یورپی فنڈز کے مؤثر استعمال جیسے معاملات پر فیصلے کرنا ہیں۔ یوکرین کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے رومانیہ کی سلامتی اور علاقائی پالیسی بھی نئی حکومت کے ایجنڈے میں اہم رہے گی۔

نیکولیسکو کی حکومت میں ٹیکنوکریٹس کی شمولیت سے انتظامی مہارت پر زور دینے کا اشارہ ملتا ہے، لیکن حکومت کی اصل سمت اس کے عملی فیصلوں، پارلیمانی اتحادوں اور بجٹ پالیسی سے واضح ہوگی۔ محض اعتماد کا ووٹ ان تمام سیاسی اختلافات کو ختم نہیں کرتا جنہوں نے گزشتہ مہینوں میں حکومت سازی کو مشکل بنایا تھا۔

تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ پارلیمنٹ نے نیکولیسکو کی بطور وزیر اعظم توثیق کر دی ہے اور نئی اقلیتی حکومت کو آئینی طور پر آگے بڑھنے کا راستہ مل گیا ہے۔ اس کے بعد توجہ کابینہ کے عملی پروگرام، مالیاتی اقدامات اور پارلیمنٹ میں قانون سازی کے لیے درکار حمایت پر مرکوز ہوگی۔