اسلام آباد میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے صنعت اور زرعی شعبے کے لیے ’’روشن اکانومی الیکٹریسٹی پیکیج‘‘ پیش کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اہل صارفین کو اضافی بجلی 22.98 روپے فی یونٹ کی مقررہ شرح پر فراہم کی جائے گی۔ سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق پیکیج کی مدت تین سال رکھی گئی ہے اور اس کا بنیادی ہدف صنعتی پیداوار، زرعی سرگرمی اور بجلی کے نظام میں موجود اضافی صلاحیت کے مؤثر استعمال کو فروغ دینا ہے۔

اعلان کے مطابق رعایتی شرح معمول کی کھپت کے بجائے اضافی استعمال سے منسلک ہوگی۔ اس ترتیب کا مقصد یہ ہے کہ کارخانے اور زرعی صارفین اپنی موجودہ بنیاد سے زیادہ بجلی استعمال کرکے پیداواری سرگرمی بڑھائیں، جبکہ بجلی کے نظام میں دستیاب مگر کم استعمال ہونے والی صلاحیت بھی بروئے کار آئے۔ حکومت اس پیکیج کو معاشی سرگرمی، برآمدی مسابقت اور روزگار کے مواقع بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ قرار دے رہی ہے۔

وزیراعظم نے توانائی کی لاگت کو صنعت کے لیے ایک اہم مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسابقتی قیمت پر بجلی کی فراہمی سے کاروباری اداروں کو پیداوار بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔ زرعی شعبے کے لیے بھی نسبتاً کم شرح پر اضافی بجلی ٹیوب ویل، آبپاشی اور دیگر پیداواری ضروریات میں استعمال ہو سکتی ہے۔ تاہم عملی فائدہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ متعلقہ صارفین کی بنیادی کھپت کس طرح متعین کی جاتی ہے، اضافی یونٹس کی پیمائش کیسے ہوتی ہے اور تقسیم کار کمپنیاں پیکیج کی شرائط پر کس انداز میں عمل درآمد کرتی ہیں۔

سرکاری پالیسی کے تناظر میں یہ اقدام بجلی کے شعبے کی مالی مشکلات اور بلند پیداواری لاگت کے درمیان طلب بڑھانے کی کوشش ہے۔ ماضی میں بھی اضافی بجلی کے استعمال کے لیے ترغیبی اسکیمیں متعارف کرائی گئی ہیں، لیکن نئی اسکیم کی نمایاں خصوصیت 22.98 روپے فی یونٹ کی شرح اور تین سال کی مدت ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ طویل مدت سے کاروباروں کو منصوبہ بندی میں زیادہ یقین ملے گا۔

پیکیج کے مالی اور انتظامی اثرات کا مکمل اندازہ اس کے تفصیلی قواعد، اہل صارفین کی تعریف اور عملی نفاذ کے بعد سامنے آئے گا۔ اعلان کے مرحلے پر اسے صنعت اور زراعت کے لیے اضافی کھپت کی ترغیب کے طور پر پیش کیا گیا ہے، نہ کہ تمام موجودہ بجلی کے استعمال پر یکساں ٹیرف میں کمی کے طور پر۔