اسلام آباد: نجکاری کمیشن بورڈ نے اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی لمیٹڈ، آئیسکو، کی نجکاری کے لیے 10 دلچسپی رکھنے والے فریقوں کو پری کوالیفائی کردیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق یہ فیصلہ نجکاری کمیشن بورڈ کے 260ویں اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری اور کمیشن کے چیئرمین محمد علی نے کی۔

پری کوالیفائی ہونے والوں میں ترکی کی تین توانائی کمپنیاں Aktor Elektrik Enerji Yatirimlari، Genvera Enerji اور Cengiz Enerji شامل ہیں۔ پاکستانی فریقوں میں اینگرو انرجی، سفائر فائبرز، نوواٹیکس اور بیسٹ وے سیمنٹ کے علاوہ آرٹسٹک ملینرز، حب پاور ہولڈنگ اور حسناعت برادرز کنسٹرکشن کی قیادت میں مختلف کنسورشیم شامل ہیں۔

یہ مرحلہ آئیسکو کی فروخت مکمل ہونے کے مترادف نہیں۔ پری کوالیفائی فریق اب ورچوئل ڈیٹا روم تک رسائی حاصل کرکے کمپنی کے مالی، قانونی اور آپریشنل معاملات کی تفصیلی ڈیو ڈیلیجنس کرسکیں گے۔ اس کے بعد نجکاری کے اگلے مراحل، شرائط اور بولی کا عمل متعلقہ قواعد کے تحت آگے بڑھے گا۔

آئیسکو ان تین بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں شامل ہے جنہیں نجکاری کے پہلے بیچ میں رکھا گیا ہے۔ اسی بیچ میں فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی اور گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی بھی شامل ہیں۔ بورڈ نے فیسکو کے لیے پہلے سے پری کوالیفائی آرٹسٹک ملینرز کنسورشیم میں مزید ارکان شامل کرنے کی منظوری بھی دی، جو قابل اطلاق شرائط کے تابع ہوگی۔

اجلاس میں زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ کی نجکاری کے ٹرانزیکشن اسٹرکچر اور تنظیم نو کے منصوبے میں تبدیلیاں بھی منظور کی گئیں۔ کمیشن کے مطابق ان تبدیلیوں کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ نجکاری کے بعد بھی بینک زرعی اور کسان فنانسنگ پر توجہ برقرار رکھے۔ اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کے لیے مالی مشیر کی تقرری کے سلسلے میں ڈوئچے بینک کی قیادت والے کنسورشیم کو اعلیٰ درجہ دیا گیا اور معاہدے پر مذاکرات کے لیے کمیٹی قائم کی گئی۔

نجکاری کمیشن کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد شفاف اور مسابقتی ٹرانزیکشنز کے ذریعے سرمایہ کاری لانا، آپریشنل کارکردگی بہتر کرنا اور سرکاری اثاثوں کی قدر زیادہ سے زیادہ حاصل کرنا ہے۔ آئیسکو کے معاملے میں حتمی نتیجہ ابھی باقی ہے اور پری کوالیفکیشن صرف اہل امیدواروں کو اگلے مرحلے میں داخل ہونے کی اجازت دیتی ہے۔