پاکستان اور ایران کے درمیان دو اہم سرحدی راستوں پر تجارتی بندش کے بعد ملک میں مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قلت مزید سنگین ہوگئی ہے اور مختلف علاقوں میں قیمتیں تیزی سے بڑھی ہیں۔ رائٹرز کی 23 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق گبد-ریمدان اور تفتان کراسنگ 17 اکتوبر کو بند ہونے کے بعد ایران سے ایل پی جی کی درآمد رک گئی، جبکہ تاجروں اور صنعت سے وابستہ نمائندوں نے خبردار کیا ہے کہ تعطل برقرار رہنے کی صورت میں سردیوں سے پہلے صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔
پاکستانی حکام نے سرحدی بندش کو سکیورٹی خدشات، اسمگلنگ کی روک تھام اور سرحدی انتظام بہتر بنانے کی کوششوں سے جوڑا ہے، جبکہ ایرانی وزارت خارجہ نے اسے تکنیکی مسائل سے منسوب کیا۔ دونوں ملکوں کی جانب سے وجوہات کی یہ مختلف وضاحتیں سامنے آئی ہیں، تاہم فریقین تجارت کی بحالی کے لیے رابطے جاری رکھنے کی بات کر رہے ہیں۔ گبد-ریمدان راستہ پاکستانی خراب ہونے والی زرعی مصنوعات کی برآمد کے لیے دوبارہ کھولا گیا ہے، لیکن رائٹرز کے مطابق ایل پی جی کی درآمد بدستور معطل ہے۔
پاکستان ایل پی جی ایسوسی ایشن کے مطابق ایران سے تقریباً 7 ہزار میٹرک ٹن ایل پی جی یومیہ پاکستان آتی ہے۔ گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر شمس الحق کے مطابق صرف گبد-ریمدان راستے سے روزانہ 4 ہزار ٹن سے زیادہ ایل پی جی آتی تھی۔ ان کے مطابق سینکڑوں ٹرک اور ایل پی جی ٹینکر سرحد کے دونوں جانب پھنسے ہوئے ہیں، جبکہ ایران جانے والے آلو، کیلے اور چاول سمیت پاکستانی اشیا کے ایک ہزار سے زیادہ کنٹینرز بھی تعطل سے متاثر ہوئے۔
تاجروں نے بتایا کہ 12 کلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت چند روز میں تقریباً 4,500 روپے سے بڑھ کر بلوچستان میں 7 ہزار روپے تک پہنچ گئی۔ پاکستان ایل پی جی ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر کے مطابق یہی سلنڈر لاہور میں تقریباً 7,500 اور سکردو میں 8,200 روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔ یہ نرخ تاجروں اور ایسوسی ایشن کے نمائندوں کی فراہم کردہ مارکیٹ معلومات ہیں اور مختلف مقامات پر اصل خوردہ قیمت میں فرق ہوسکتا ہے۔
ڈان نے بھی رواں ہفتے رپورٹ کیا تھا کہ ایرانی رسد میں شدید کمی کے باعث کھلی مارکیٹ میں ایل پی جی کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچی ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق اکتوبر کے لیے اوگرا کا سرکاری نرخ 279 روپے فی کلو تھا، جبکہ کئی علاقوں میں مارکیٹ نرخ اس سے نمایاں طور پر زیادہ تھے۔ اس فرق نے نگرانی، ذخیرہ اندوزی اور درآمدی رسد کے انتظام سے متعلق سوالات بھی پیدا کیے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت 2023-24 کے مالی سال میں تقریباً 2.8 ارب ڈالر رہی تھی۔ موجودہ تعطل کا فوری اثر ایل پی جی صارفین کے ساتھ سرحدی تجارت اور ٹرانسپورٹ پر بھی پڑ رہا ہے۔ سردیوں میں گھریلو حرارت اور کھانا پکانے کے لیے ایل پی جی کی طلب بڑھنے کے باعث مارکیٹ نمائندوں کا کہنا ہے کہ سرحدی رسد جلد بحال نہ ہوئی تو قیمتوں اور دستیابی پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔

