لاہور/پشاور: پاکستان میں مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی سپلائی میں کمی کے ساتھ قیمتوں میں تیز اضافہ سامنے آیا ہے اور بعض علاقوں میں گھریلو صارفین کو سرکاری نرخ کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ دی ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کے بعض شمالی علاقوں میں ایل پی جی کی قیمت 750 روپے فی کلو تک پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ کچھ مقامات پر گھریلو سلنڈر کی قیمت 10 ہزار روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔

رپورٹ میں اوگرا کے ایک سینئر عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا کہ پاکستان اپنی ایل پی جی ضرورت کا بڑا حصہ درآمدات سے پورا کرتا ہے اور حالیہ دنوں میں سرحدی راستوں سے رسد متاثر ہونے کے بعد مارکیٹ پر دباؤ بڑھا ہے۔ اوگرا نے رواں ماہ کے لیے ایل پی جی کا سرکاری نرخ 279.34 روپے فی کلو مقرر کیا تھا، لیکن متعدد مارکیٹوں میں قیمتیں 550 سے 600 روپے فی کلو تک بتائی جا رہی ہیں۔ پشاور میں بھی نرخ تقریباً 600 روپے فی کلو رپورٹ ہوئے ہیں۔

اوگرا کے ترجمان نے اخبار کو بتایا کہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے کام جاری ہے اور سرحدی بندش سے پیدا ہونے والی مشکلات کا اعتراف کیا۔ رپورٹ کے مطابق مبینہ منافع خوری کے خلاف مجوزہ کارروائی ابھی شروع نہیں ہو سکی، کیونکہ حکام کو خدشہ ہے کہ سخت نفاذ کے نتیجے میں ہڑتال یا مزید سپلائی تعطل پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ موقف متعلقہ حکام اور رپورٹ میں شامل ذرائع سے منسوب ہے اور اسے حتمی ریگولیٹری نتیجہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

قیمتوں میں اضافے کا اثر خاص طور پر ان گھرانوں پر پڑ رہا ہے جہاں پائپ لائن گیس کی دستیابی محدود ہے۔ پشاور کے مضافاتی اور دیہی علاقوں میں بعض صارفین کے لکڑی کی طرف منتقل ہونے کی اطلاعات بھی ہیں، جس سے ایندھن کی لکڑی کے نرخ میں 200 سے 300 روپے فی من اضافہ رپورٹ ہوا۔ ایل پی جی بحران ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سردیوں کی آمد کے ساتھ گھریلو ایندھن کی طلب بڑھنے کا امکان ہے، اس لیے سپلائی کی بحالی اور سرکاری نرخ پر دستیابی صارفین کے لیے اہم مسئلہ بن گئی ہے۔