بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی درآمدات اور ترسیلات زر کی رفتار میں ممکنہ اعتدال کے باعث پاکستان کی بیرونی مالی پوزیشن درمیانی مدت میں کمزور ہو سکتی ہے۔ آئی ایم ایف نے اپنے مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا سے متعلق تازہ علاقائی جائزے میں زرمبادلہ ذخائر محفوظ رکھنے کے لیے شرح مبادلہ میں لچک اور مہنگائی کے دباؤ کے مقابلے کے لیے محتاط مانیٹری پالیسی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

فنڈ کے مطابق پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً ایک فیصد، یعنی لگ بھگ 4.5 ارب ڈالر تک رہ سکتا ہے۔ یہ تخمینہ سرکاری اندازے سے زیادہ ہے۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کی مجموعی بیرونی فنانسنگ ضروریات کو جی ڈی پی کے تقریباً 22 سے 25 فیصد کے درمیان قرار دیا، جو ہم پلہ کئی معیشتوں کے مقابلے میں بلند سطح ہے اور بیرونی مالی خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے۔

آئی ایم ایف نے یہ بھی نشاندہی کی کہ پاکستانی کمرشل بینکوں کی سرکاری قرض میں نمائش بہت زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق بینکاری نظام کی سرکاری قرض سے گہری وابستگی ایسے حالات میں خطرہ بڑھا سکتی ہے جب حکومت کی فنانسنگ لاگت یا قرض کی پائیداری پر دباؤ بڑھے۔ یہ تجزیہ کسی فوری بینکاری بحران کی پیش گوئی نہیں بلکہ مالی نظام میں موجود ایک ساختی خطرے کی نشاندہی ہے۔

شرح مبادلہ کے بارے میں فنڈ نے کہا کہ زیادہ لچک ذخائر کے تحفظ اور بیرونی کھاتے کی ایڈجسٹمنٹ میں مدد دے سکتی ہے، اگرچہ روپے کی قدر میں کمی درآمدی قیمتوں کے ذریعے مہنگائی بڑھا سکتی ہے۔ حکومت ماضی میں یہ مؤقف دیتی رہی ہے کہ غیر ضروری کرنسی کمزوری مہنگائی میں اضافہ کرتی ہے اور برآمدات پر اس کے فوائد محدود ہو سکتے ہیں۔

آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے معاشی نمو کی پیش گوئی 3.5 فیصد پر برقرار رکھی ہے، جو حکومت کے چار فیصد ہدف سے کم ہے۔ فنڈ نے مہنگائی کی پیش گوئی بھی بڑھائی اور کہا کہ جہاں افراط زر ہدف سے اوپر ہو وہاں مرکزی بینکوں کو ضرورت پڑنے پر مانیٹری پالیسی سخت کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ پاکستان میں پالیسی ریٹ اس وقت 11.5 فیصد بتایا گیا ہے۔

یہ جائزہ آئی ایم ایف پروگرام کی کسی نئی قسط کی منظوری نہیں بلکہ علاقائی معاشی خطرات اور پالیسی ترجیحات کا تجزیہ ہے۔ پاکستان کے حقیقی بیرونی نتائج درآمدات، برآمدات، ترسیلات زر، توانائی قیمتوں، قرضوں کی ادائیگی اور بیرونی مالی معاونت کے بہاؤ کے مطابق آئی ایم ایف کے موجودہ تخمینوں سے مختلف ہو سکتے ہیں۔