حکومت نے بینکنگ شعبے پر زور دیا ہے کہ چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کے لیے قرض کے حصول میں موجود رکاوٹیں کم کی جائیں اور ایس ایم ای فنانسنگ میں نمایاں اضافہ کیا جائے۔ سرکاری معاشی پالیسی سے وابستہ مشیر نے کاروباری اور بینکاری حلقوں سے گفتگو میں کہا کہ موجودہ قرضی رسائی پاکستان کی معیشت میں ایس ایم ایز کے کردار کے مقابلے میں محدود ہے اور فنانسنگ کو تقریباً دوگنا کرنے کی ضرورت ہے۔
چھوٹے اور درمیانے کاروبار پاکستان میں روزگار، مقامی پیداوار اور خدمات کے بڑے حصے سے وابستہ ہیں، لیکن رسمی بینکاری نظام سے قرض حاصل کرنا ان کے لیے طویل عرصے سے مشکل رہا ہے۔ ضمانت کی شرائط، مالی ریکارڈ کی کمی، بلند خطرے کا تصور اور بینکوں کی بڑی کمپنیوں یا سرکاری قرض کی طرف ترجیح ایسے عوامل ہیں جو ایس ایم ای کریڈٹ کو محدود کر سکتے ہیں۔
حکومتی مؤقف کے مطابق بینکوں کو قرض دینے کے طریقہ کار میں ایسی تبدیلیاں کرنا ہوں گی جن سے قابل عمل چھوٹے کاروبار صرف روایتی ضمانت نہ ہونے کی وجہ سے فنانسنگ سے محروم نہ رہیں۔ کیش فلو پر مبنی قرض، ڈیجیٹل مالی ریکارڈ اور کریڈٹ گارنٹی جیسے طریقے چھوٹے کاروباروں کی اہلیت جانچنے کے متبادل ذرائع بن سکتے ہیں۔ تاہم ہر قرض کی منظوری متعلقہ بینک کے خطرے کے جائزے اور ضابطہ جاتی شرائط سے مشروط رہتی ہے۔
ایس ایم ای فنانسنگ میں 100 فیصد اضافے کی بات ایک پالیسی ہدف اور ضرورت کے طور پر سامنے آئی ہے، اسے فوری طور پر حاصل شدہ اضافہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ اس مقصد تک پہنچنے کے لیے بینکوں، اسٹیٹ بینک، حکومتی اداروں اور کاروباری تنظیموں کے درمیان عملی اقدامات، ڈیٹا کے بہتر استعمال اور قرضی مصنوعات میں تبدیلی درکار ہوگی۔
چھوٹے کاروباروں کو زیادہ قرض ملنے سے نئی سرمایہ کاری، ورکنگ کیپیٹل اور روزگار میں اضافہ ہو سکتا ہے، لیکن تیز قرضی توسیع کے ساتھ کریڈٹ معیار برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔ ناقص جانچ کے ساتھ قرض بڑھانے سے غیر فعال قرضوں کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے، اس لیے پالیسی کا مقصد رسائی اور مالی استحکام کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔
تازہ بیان پاکستان کی نجی شعبہ قیادت والی نمو کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔ حقیقی پیش رفت کا پیمانہ آنے والے مہینوں میں ایس ایم ای قرضوں کے حجم، نئے قرض لینے والے کاروباروں کی تعداد، فنانسنگ کی لاگت اور بینکوں کی جانب سے متعارف کرائی جانے والی عملی سہولتیں ہوں گی۔

