اسلام آباد: وفاقی حکومت نے 23 اکتوبر 2026 کے لیے پٹرول کی قیمت میں 1.60 روپے فی لیٹر کمی جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 1.64 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ وزارتِ توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق پٹرول کی نئی ایکس ڈپو قیمت 377.71 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جو اس سے پہلے 379.31 روپے فی لیٹر تھی۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 390.11 روپے سے بڑھا کر 391.75 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے وفاقی حکومت کے پیٹرولیم پرائسنگ میکانزم کے تحت نئی ایکس ڈپو قیمتوں کا تعین کیا۔ پیٹرولیم ڈویژن نے قیمتوں میں تازہ ردوبدل کی وجہ عالمی منڈی سے متعلق عوامل کو قرار دیا، جن میں پلاٹس ریٹس، پریمیم اور دیگر متعلقہ اخراجات میں تبدیلی شامل ہے۔ اس طرح ایک ہی دن کے جائزے میں دونوں بڑی پیٹرولیم مصنوعات کی سمت مختلف رہی: موٹر اسپرٹ یعنی پٹرول سستا ہوا جبکہ ٹرانسپورٹ اور مال برداری میں بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والا ہائی اسپیڈ ڈیزل مہنگا ہوا۔
حالیہ عرصے میں حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے جائزے کے طریقہ کار میں تبدیلی کرتے ہوئے زیادہ کثرت سے قیمتوں کے تعین کا نظام اختیار کیا ہے۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق نئی قیمتیں بین الاقوامی مارکیٹ کے حالیہ اوسط نرخوں اور درآمدی لاگت سے متعلق عناصر کی بنیاد پر طے کی جاتی ہیں۔ اس نظام کا مقصد عالمی قیمتوں میں تبدیلی کو مقامی نرخوں میں نسبتاً جلد منتقل کرنا بتایا گیا ہے۔
پٹرول کی قیمت میں 1.60 روپے کی کمی نجی گاڑیوں اور موٹر سائیکل استعمال کرنے والے صارفین کے لیے معمولی ریلیف کا باعث بن سکتی ہے، تاہم ہائی اسپیڈ ڈیزل میں 1.64 روپے اضافہ مال برداری، زرعی مشینری اور ڈیزل استعمال کرنے والے تجارتی شعبوں کی لاگت پر اثر ڈال سکتا ہے۔ قیمتوں کے مجموعی معاشی اثر کا انحصار آئندہ دنوں میں عالمی خام تیل اور تیار شدہ پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں، درآمدی پریمیم اور روپے کی قدر سمیت دیگر عوامل پر ہوگا۔
یہ رپورٹ پیٹرولیم ڈویژن کے اعلامیے سے منسوب اعداد و شمار اور اے پی پی، ڈان اور ایکسپریس ٹریبیون کی تصدیق شدہ رپورٹس پر مبنی ہے۔ نئی قیمتوں کو 23 اکتوبر کے لیے نافذ نرخ سمجھا جائے گا، جبکہ بعد کے جائزوں میں مزید تبدیلی ممکن ہے۔

