ورلڈ بینک نے پاکستان کی معاشی نمو کو درمیانی سطح پر رہنے کی توقع ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ موجودہ رفتار ملک میں ہر سال روزگار کی منڈی میں داخل ہونے والے تقریباً 36 لاکھ افراد کے لیے کافی ملازمتیں پیدا کرنے کے لیے ناکافی ہو سکتی ہے۔ تازہ معاشی جائزے میں شرح نمو تقریباً 4.2 فیصد رہنے کی توقع بیان کی گئی ہے، تاہم بینک نے روزگار، سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت کے لیے زیادہ تیز اور پائیدار ترقی کی ضرورت پر زور دیا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے میکرو اکنامک استحکام کی جانب پیش رفت کی ہے، لیکن بحران سے نکلنے کے بعد اگلا چیلنج ایسی نمو پیدا کرنا ہے جو وسیع پیمانے پر روزگار اور آمدن میں اضافہ کرے۔ آبادی اور افرادی قوت میں تیز اضافے کے باعث صرف مثبت جی ڈی پی نمو کافی نہیں؛ ضروری ہے کہ سرمایہ کاری ایسے شعبوں میں بڑھے جو بڑی تعداد میں پیداواری ملازمتیں پیدا کر سکیں۔
ورلڈ بینک نے نجی سرمایہ کاری، برآمدات اور پیداواری صلاحیت کو طویل مدتی ترقی کے لیے اہم قرار دیا ہے۔ کاروباری ماحول میں غیر یقینی، توانائی لاگت، محدود مالی رسائی اور کم انسانی سرمایہ جیسے عوامل نجی شعبے کی توسیع کو روک سکتے ہیں۔ اصلاحات کا مقصد ان رکاوٹوں کو کم کرکے نئی کمپنیوں، موجودہ صنعتوں اور خدمات کے شعبے کو زیادہ روزگار پیدا کرنے کے قابل بنانا ہے۔
شرح مبادلہ کے بارے میں بھی رپورٹ میں مارکیٹ کے کردار اور بیرونی مسابقت پر بحث کی گئی ہے۔ عالمی بینک کا مؤقف ہے کہ روپے کی قدر کو معاشی بنیادی عوامل کے مطابق زیادہ آزادانہ ردعمل کی گنجائش دینا بیرونی عدم توازن کے خطرات کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ تاہم کرنسی میں تبدیلی درآمدی مہنگائی اور کاروباری لاگت کو بھی متاثر کرتی ہے، اس لیے پالیسی سازوں کو استحکام اور مسابقت کے درمیان توازن رکھنا پڑتا ہے۔
36 لاکھ افراد کا حوالہ لیبر مارکیٹ میں سالانہ نئے داخل ہونے والوں کے حجم کو ظاہر کرتا ہے؛ یہ کسی ایک سال میں بے روزگار ہونے والے افراد کی قطعی تعداد نہیں۔ روزگار کی اصل صورتحال افرادی قوت کی شرکت، غیر رسمی کام، بیرون ملک روزگار، شعبہ جاتی نمو اور معاشی سرگرمی کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔
ورلڈ بینک کی مجموعی تشخیص یہ ہے کہ پاکستان کو بحران سے بچاؤ کے لیے استحکام کے ساتھ ایسی اصلاحات درکار ہیں جو سرمایہ کاری اور فی کارکن پیداوار بڑھائیں۔ 4.2 فیصد متوقع نمو ایک پیش گوئی ہے، حتمی نتیجہ نہیں، اور عالمی توانائی قیمتوں، علاقائی حالات، موسم اور ملکی پالیسی کے نفاذ کے مطابق اصل شرح مختلف ہو سکتی ہے۔

