روس اور یوکرین کے درمیان رات بھر ہونے والے ڈرون اور فضائی حملوں میں دونوں جانب جانی اور مالی نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ رائٹرز کے مطابق یوکرینی ڈرون حملوں سے روس کے تولا خطے میں دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے، جبکہ روسی فضائی حملوں کے نتیجے میں یوکرین کے دارالحکومت کیف میں آٹھ افراد زخمی ہوئے اور ایک نو منزلہ رہائشی عمارت میں آگ لگ گئی۔

رائٹرز نے متعلقہ حکام کے بیانات کی بنیاد پر بتایا کہ روس کے ساراتوف خطے میں بھی ڈرون حملوں سے نقصان ہوا۔ اس علاقے میں تیل صاف کرنے کی تنصیب اور دیگر صنعتی مقامات موجود ہیں۔ ایک لاجسٹکس مرکز میں آگ لگنے کی اطلاع بھی دی گئی، جسے ای کامرس کمپنی اوزون سے منسوب کیا گیا۔ وولگوگراڈ میں دو افراد کے زخمی ہونے اور رہائشی و صنعتی ڈھانچوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئیں، تاہم متاثرہ صنعتی مقام کی مکمل تفصیل فوری طور پر واضح نہیں ہوئی۔

یوکرین اپنے بعض طویل فاصلے کے ڈرون حملوں کو روس پر جنگ کا داخلی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کے طور پر پیش کرتا رہا ہے۔ دوسری جانب روس نے کیف اور دیگر یوکرینی شہروں پر فضائی حملے جاری رکھے ہیں۔ دونوں ملک عام شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہیں، لیکن طویل جنگ کے دوران شہری آبادی، رہائشی عمارتیں اور بنیادی ڈھانچہ بارہا متاثر ہوا ہے۔

کیف پر تازہ حملہ ایک ایسے مرحلے میں ہوا جب حالیہ سفارتی سرگرمیوں کے دوران روسی فضائی کارروائیوں میں عارضی کمی دیکھی گئی تھی۔ رائٹرز کے مطابق امریکی حکام کے امن مذاکرات سے متعلق دورے کے بعد روس نے دارالحکومت پر زیادہ باقاعدہ فضائی حملے دوبارہ شروع کیے ہیں۔

ان واقعات کے بارے میں ابتدائی معلومات روسی اور یوکرینی علاقائی و سرکاری ذرائع سے سامنے آئیں اور رائٹرز نے کہا کہ وہ تمام تفصیلات کی آزادانہ تصدیق فوری طور پر نہیں کر سکا۔ اس لیے مخصوص مقامات پر نقصان، حملوں کی نوعیت اور اہداف سے متعلق بعض دعوے متعلقہ فریقوں سے منسوب ہیں۔ جنگ کے جاری رہنے کے باعث دونوں جانب ڈرون دفاع، توانائی اور صنعتی تنصیبات کی حفاظت اور شہری علاقوں کی سلامتی بدستور بڑے چیلنج ہیں۔