واشنگٹن: امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اگلے ہفتے پیر کو ایک بڑے بینک پر پابندی عائد کرے گی، جس کا مقصد ایران پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھانا ہے۔ رائٹرز کے مطابق بیسنٹ نے نہ بینک کا نام بتایا اور نہ اس ملک کی شناخت ظاہر کی جہاں یہ مالیاتی ادارہ قائم ہے۔
بیسنٹ نے ایک ٹیلی وژن انٹرویو میں کہا کہ پابندی کا اعلان ابتدا میں جمعہ کے لیے طے تھا، لیکن 11 ستمبر 2001 کے حملوں کی 25ویں برسی کی تقریبات کے باعث اسے پیر تک مؤخر کیا گیا۔ ان کے بیان کے مطابق امریکی حکومت ایران کے ساتھ کاروباری تعلقات رکھنے والوں کے لیے مالی خطرات بڑھانے کی پالیسی جاری رکھنا چاہتی ہے۔
رائٹرز کے مطابق فروری میں امریکا اور ایران کے درمیان موجودہ تنازع شروع ہونے کے بعد واشنگٹن نے ایرانی تیل برآمدات، جہاز رانی کے نیٹ ورکس، اسلحہ خریداری کے ذرائع، مالیاتی واسطہ کاروں، ڈیجیٹل اثاثوں کے تبادلے اور ہوابازی کے روابط سمیت متعدد شعبوں کو پابندیوں کا نشانہ بنایا ہے۔ گزشتہ ماہ اس مہم میں مزید توسیع کی گئی تھی۔
بیسنٹ نے اس وسیع پابندی مہم کو ”آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ“ کا نام دیا تھا۔ رائٹرز کے مطابق اس مرحلے میں تقریباً 60 اداروں، افراد اور جہازوں کو ہدف بنایا گیا اور جہاز رانی، ہوابازی، ٹیکنالوجی، سونا اور ڈیجیٹل اثاثوں سمیت بعض شعبوں میں ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والوں پر ثانوی پابندیوں کا دائرہ بڑھایا گیا۔
تازہ اعلان میں چونکہ متعلقہ بینک کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی، اس لیے اس کے ممکنہ اثرات، دائرہ کار اور قانونی تفصیلات پیر کے باضابطہ اقدام کے بعد ہی واضح ہوں گی۔ پابندی کا اعلان ہونے تک یہ بیسنٹ کی پیشگی اطلاع ہے، مکمل نافذ شدہ اقدام نہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے ایک روز قبل کہا تھا کہ ان کے خیال میں ایران کے ساتھ جنگ نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے ختم نہیں ہوگی۔ اس پس منظر میں مالی پابندیوں کا نیا مرحلہ ظاہر کرتا ہے کہ واشنگٹن فوجی تنازع کے ساتھ اقتصادی ذرائع سے بھی تہران پر دباؤ برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔




