واشنگٹن: وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ روس اور یوکرین نے جنوبی یوکرین کے روسی کنٹرول والے شہر اولیشکی میں عارضی اور مقامی جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے، جس کا آغاز 29 اکتوبر سے ہوگا۔ امریکی بیان کے مطابق اس وقفے کا مقصد انسانی امداد کو شہر تک پہنچانا اور ان شہریوں کے محفوظ انخلا کی تیاری کرنا ہے جو علاقہ چھوڑنا چاہتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ اور ان کے نمائندے نے روسی اور یوکرینی قیادت کے ساتھ براہ راست رابطوں کے ذریعے اس محدود جنگ بندی کی شرائط طے کرنے میں کردار ادا کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ دونوں ملک اولیشکی میں تمام فوجی کارروائیاں عارضی طور پر روکیں گے تاکہ غیر فوجی ٹیمیں مقامی آبادی تک پہنچ سکیں، گھروں میں موجود افراد کی ضروریات کا جائزہ لے سکیں اور انخلا کے خواہش مند شہریوں کے لیے محفوظ راستہ تیار کیا جا سکے۔

اولیشکی دریائے دنیپرو کے پار خیرسون کے سامنے واقع ہے اور فروری 2022 سے روسی فورسز کے قبضے میں ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق جنگ سے پہلے تقریباً 24 ہزار آبادی رکھنے والے شہر میں اب اندازاً 1,700 سے 2,000 افراد باقی ہیں، جن میں زیادہ تر عمر رسیدہ شہری اور تقریباً 50 بچے شامل ہیں۔ 2023 میں کاخووکا ڈیم کی تباہی کے بعد شہر کا بڑا حصہ سیلاب سے بھی متاثر ہوا تھا۔

امریکی بیان میں اولیشکی کی انسانی صورتحال کو سنگین قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ باقی ماندہ آبادی کو ادویات، طبی امداد، خوراک اور صاف پانی کی فوری ضرورت ہے۔ طے شدہ انتظام کے تحت دونوں جانب کی غیر فوجی ٹیمیں رہائشیوں سے رابطہ کریں گی اور جو لوگ روس یا یوکرین میں کسی مقام پر منتقل ہونا چاہیں، انہیں ان کی ترجیح کے مطابق نقل و حمل اور رابطہ کاری کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

یہ معاہدہ پورے روس-یوکرین محاذ پر جنگ بندی نہیں بلکہ ایک مخصوص شہر تک محدود انسانی وقفہ ہے۔ روس اور یوکرین کے درمیان وسیع جنگ فروری 2022 میں روسی حملے کے بعد سے جاری ہے اور مختلف سفارتی کوششوں کے باوجود جامع امن معاہدہ نہیں ہو سکا۔ اولیشکی میں اعلان کردہ وقفے کی عملی کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ فریقین مقررہ مدت میں فوجی سرگرمیاں روک کر امدادی ٹیموں اور شہریوں کے محفوظ گزرنے کو کس حد تک یقینی بناتے ہیں۔