صدر آصف علی زرداری نے 23 اکتوبر کو برلن میں جرمن صدر فرینک والٹر شٹائن مائر سے ملاقات کی جس میں پاکستان اور جرمنی کے دوطرفہ تعلقات کے ساتھ علاقائی اور عالمی امور پر بات چیت ہوئی۔ پاکستانی ایوانِ صدر کے بیان کے مطابق جرمن صدر نے علاقائی اور عالمی تنازعات کے حل میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار کو سراہا، جبکہ دونوں رہنماؤں نے افغانستان سے متعلق چیلنجز پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان کا افغان عوام کے ساتھ کوئی تنازع نہیں، تاہم پاکستان اپنی سرزمین اور شہریوں کے خلاف دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کو قبول نہیں کرے گا۔ بیان کے مطابق جرمن صدر نے جرمنی بھیجے جانے والے 500 افغان شہریوں کی تصدیق کے عمل میں پاکستان کی معاونت اور کئی دہائیوں سے افغان شہریوں کے لیے پاکستان کی انسانی امداد کو بھی سراہا۔

ملاقات میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے مکہ دفاعی معاہدے کا بھی ذکر ہوا۔ صدر زرداری نے پاکستانی مؤقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس انتظام کا مقصد علاقائی سلامتی میں معاونت ہے اور یہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں۔ دونوں صدور نے کاروبار، تجارت، تعلیم اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں روابط بڑھانے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔

صدر زرداری نے سیاسی اور دفاعی تعاون کے ساتھ معیشت و تجارت، ابھرتی ٹیکنالوجیز، موسمیاتی لچک، ہنرمندی، صحت، تعلیم، زراعت اور صنعت میں عملی شراکت داری بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے جرمن صدر کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، جس پر شٹائن مائر نے مناسب وقت پر دورے پر غور کرنے کا عندیہ دیا۔ بعد ازاں وفود کی سطح پر بھی مذاکرات ہوئے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان اور جرمنی اپنے سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کی جانب بڑھ رہے ہیں اور دونوں ممالک اقتصادی تعاون کو تعلقات کا نمایاں ستون بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔