پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب نے مکہ دفاعی معاہدے سے متعلق اپنی اپنی داخلی توثیقی کارروائیاں مکمل کرلی ہیں۔ 23 اکتوبر کو دی گئی بریفنگ میں دفتر خارجہ نے معاہدے کی نوعیت کے بارے میں پاکستانی مؤقف دہراتے ہوئے اسے بنیادی طور پر دفاعی انتظام قرار دیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب خطے میں سکیورٹی کے نئے انتظامات اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔

دفتر خارجہ کے مطابق معاہدے کی توثیق دونوں ممالک کے متعلقہ داخلی قانونی اور انتظامی تقاضوں کے تحت مکمل ہوئی۔ پاکستان نے اس حوالے سے یہ مؤقف برقرار رکھا ہے کہ دفاعی تعاون کا مقصد علاقائی سلامتی اور باہمی دفاعی روابط کو مضبوط بنانا ہے، نہ کہ اسے کسی مخصوص ملک کے خلاف اتحاد کے طور پر دیکھا جائے۔ پاکستانی حکام حالیہ دنوں میں بھی اس نکتے پر زور دیتے رہے ہیں کہ علاقائی تنازعات کا حل بات چیت اور سفارتی ذرائع سے تلاش کیا جانا چاہیے۔

مکہ دفاعی انتظام کا ذکر پاکستان کی دیگر اعلیٰ سطحی سفارتی ملاقاتوں میں بھی ہوا ہے۔ برلن میں جرمن صدر فرینک والٹر شٹائن مائر کے ساتھ ملاقات کے دوران صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ یہ معاہدہ علاقائی سلامتی کے لیے ایک متبادل فریم ورک فراہم کرنے کی کوشش ہے اور کسی مخصوص ریاست کے خلاف نہیں۔ اس پس منظر میں توثیق کی تکمیل معاہدے کے ادارہ جاتی مرحلے میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور ان میں تربیت، عسکری رابطے اور سکیورٹی تعاون شامل رہے ہیں۔ حالیہ معاہدہ ایسے دور میں سامنے آیا ہے جب پاکستان مختلف علاقائی شراکت داروں کے ساتھ دفاعی اور سفارتی روابط کو وسعت دے رہا ہے۔ تاہم معاہدے کی عملی تفصیلات اور مستقبل میں اس کے تحت تعاون کی مخصوص شکلیں سرکاری سطح پر جاری معلومات اور دونوں حکومتوں کے آئندہ فیصلوں سے واضح ہوں گی۔