برلن: صدر آصف علی زرداری نے جرمن صدر فرانک والٹر شٹائن مائر سے ملاقات میں پاکستان اور جرمنی کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط، وسیع اور باہمی فائدہ مند بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ملاقات صدر زرداری کے جرمنی کے سرکاری دورے کے دوران ہوئی، جو دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر اعلیٰ سطحی رابطوں کا حصہ ہے۔
پاکستانی حکام کے مطابق بات چیت میں دوطرفہ سیاسی تعلقات کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعاون پر خصوصی توجہ دی گئی۔ پاکستان جرمنی کے ساتھ سرمایہ کاری، کاروباری روابط اور مختلف پیداواری شعبوں میں شراکت داری بڑھانے کا خواہاں ہے۔ دونوں ملک 1951 میں قائم ہونے والے سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل کر رہے ہیں، جس کے باعث موجودہ دورے کو علامتی اور عملی دونوں حوالوں سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
جرمنی یورپی یونین میں پاکستان کے اہم تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے۔ پاکستانی برآمدی شعبے، خصوصاً ٹیکسٹائل، انجینئرنگ، ادویہ سازی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی، جرمن منڈی اور سرمایہ کاری کے ساتھ مزید روابط کی گنجائش رکھتے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں جرمن سفارتی نمائندوں نے بھی تجارت میں تنوع، سرمایہ کاری اور کاروبار سے کاروبار روابط بڑھانے کی ضرورت اجاگر کی ہے۔
صدر زرداری کا دورہ 22 سے 24 اکتوبر تک طے کیا گیا تھا۔ وزارت خارجہ کے مطابق ان کے پروگرام میں جرمن صدر کے علاوہ سینئر قیادت اور کاروباری نمائندوں سے ملاقاتیں بھی شامل تھیں، جن میں دوطرفہ تعلقات اور اقتصادی تعاون کے امکانات زیر بحث آنا تھے۔ اس تناظر میں برلن میں ہونے والی صدارتی ملاقات دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطحی سیاسی رابطے کا مرکزی مرحلہ ہے۔
پاکستان کی جانب سے اس دورے میں اقتصادی تعلقات کو نمایاں اہمیت دینا اس وسیع پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت یورپی شراکت داروں کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی تعاون بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم کسی نئے تجارتی معاہدے یا مخصوص سرمایہ کاری منصوبے کے حتمی ہونے کی اطلاع اس ملاقات کے حوالے سے سامنے نہیں آئی؛ موجودہ پیش رفت بنیادی طور پر سیاسی عزم اور تعاون کے شعبوں کو وسعت دینے پر مرکوز ہے۔ دونوں صدور کی ملاقات سے 75 سالہ سفارتی تعلقات کو آئندہ مرحلے میں زیادہ معاشی مواد دینے کی کوشش نمایاں ہوئی ہے۔
