پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار استنبول میں علاقائی صورتحال پر ہونے والی دو اہم وزارتی نشستوں میں شرکت کے لیے ترکیہ پہنچے، جہاں پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر پر مشتمل R4 گروپ کے وزرائے خارجہ کی مشاورت کے بعد برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے E3 گروپ کے ساتھ مشترکہ اجلاس طے کیا گیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق سات ممالک کا یہ پہلا اجلاس اس مخصوص R4+E3 فارمیٹ میں منعقد ہو رہا ہے۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ مذاکرات کا مرکز اہم علاقائی پیش رفت، مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مربوط سفارتی طریقہ کار اور امن و استحکام کو آگے بڑھانے کے امکانات ہوں گے۔ اسحاق ڈار کے دورے کے دوران دیگر وزرائے خارجہ کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں بھی پروگرام کا حصہ ہیں۔ پاکستان حالیہ مہینوں میں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطوں میں سرگرم رہا ہے۔

یہ مشاورت ایسے وقت ہو رہی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ اور آبنائے ہرمز سے تجارتی جہاز رانی کے معاملے پر تعطل خطے کے لیے بڑا خطرہ بنا ہوا ہے۔ اسی دوران یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب میں شہری اور توانائی کے اہداف پر حملوں نے سکیورٹی خدشات بڑھائے ہیں۔ سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں حالیہ حملوں میں شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے اور شیبہ آئل فیلڈ کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں جانی نقصان بھی رپورٹ ہوا۔

یمن میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت اور حوثیوں کے درمیان لڑائی بھی اکتوبر میں تیز ہوئی ہے۔ یمنی حکومتی فورسز نے آپریشن ڈان آف یمن شروع کر رکھا ہے اور سعودی قیادت والے اتحاد کی فضائی مدد کے ساتھ حوثی زیر کنٹرول علاقوں اور ریاستی اداروں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس وسیع تر تناظر میں استنبول اجلاس کا مقصد فوجی کارروائی کا اعلان نہیں بلکہ سفارتی رابطے اور علاقائی پالیسی میں ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔

پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں ثالثی کی کوششوں سے بھی وابستہ رہا ہے اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے رکھتا ہے۔ R4 میں پاکستان کی شمولیت اسے عرب اور ترکیہ کے اہم شراکت داروں کے ساتھ ایک مشترکہ سفارتی پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے، جبکہ E3 کے ساتھ نشست یورپی طاقتوں کو اسی مشاورت میں شامل کرتی ہے۔ دستیاب سرکاری اعلان میں کسی حتمی مشترکہ معاہدے، جنگ بندی یا نئے دفاعی اقدام کی تصدیق نہیں کی گئی؛ بنیادی پیش رفت سات ممالک کی اعلیٰ سطحی سفارتی مشاورت ہے۔