ویانا: آسٹریا نے سکیورٹی بنیادوں پر چار روسی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ان میں ویانا میں روسی سفارتخانے اور یورپ میں سلامتی و تعاون کی تنظیم، او ایس سی ای، کے لیے روسی مشن سے وابستہ اہلکار شامل ہیں۔ آسٹریا کی وزارت خارجہ نے اس اقدام کو قومی سلامتی سے متعلق قرار دیا، تاہم دستیاب رپورٹ میں ہر فرد کے خلاف تفصیلی الزامات عوامی طور پر بیان نہیں کیے گئے۔
ویانا یورپ کے بڑے سفارتی مراکز میں شمار ہوتا ہے اور یہاں اقوام متحدہ کے اداروں سمیت متعدد بین الاقوامی تنظیموں کے دفاتر موجود ہیں۔ اسی وجہ سے آسٹریا میں غیر ملکی سفارتی موجودگی خاصی بڑی ہے اور ماضی میں بھی جاسوسی اور سکیورٹی سے متعلق خدشات پر روسی سفارت کاروں کے اخراج کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق یہ رواں سال روسی سفارت کاروں کے اخراج کی دوسری نمایاں لہر ہے۔ تازہ فیصلے کے بعد 2020 سے آسٹریا سے نکالے جانے والے روسی اہلکاروں کی مجموعی تعداد 18 تک پہنچ گئی ہے۔ ملک بدری کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس اور متعدد یورپی ممالک کے تعلقات یوکرین جنگ، مبینہ انٹیلی جنس سرگرمیوں اور باہمی سفارتی پابندیوں کے باعث طویل عرصے سے کشیدہ ہیں۔
آسٹریا کی جانب سے استعمال کی گئی سکیورٹی بنیاد کی اصطلاح کو کسی عدالتی جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ سفارتی اہلکاروں کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دینا یا ملک چھوڑنے کا حکم دینا ریاستوں کا سفارتی اختیار ہے اور اس کے لیے فوجداری سزا جیسا عدالتی معیار ضروری نہیں ہوتا۔
روسی حکومت کے ممکنہ جوابی اقدام سے متعلق فوری طور پر کوئی حتمی تفصیل دستیاب رپورٹ میں نہیں دی گئی۔ ماضی میں ایسے معاملات میں ماسکو عموماً متعلقہ ملک کے سفارت کاروں کے خلاف متناسب جوابی کارروائی کرتا رہا ہے، تاہم تازہ معاملے میں کسی ردعمل کی تصدیق ہونے تک اسے قیاس کے طور پر ہی دیکھا جائے گا۔

