پاکستان نے اقوام متحدہ میں خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ روکنے کے لیے قانونی طور پر پابند بین الاقوامی معاہدے پر مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستانی نمائندے حشام احمد نے جنرل اسمبلی کی تخفیف اسلحہ کمیٹی میں کہا کہ شفافیت، اعتماد سازی اور ذمہ دارانہ رویے کے رضاکارانہ اقدامات مفید ہو سکتے ہیں لیکن وہ باقاعدہ قانونی ذمہ داریوں کا متبادل نہیں بن سکتے۔

موجودہ بین الاقوامی نظام کی بنیاد 1967 کے آؤٹر اسپیس ٹریٹی پر ہے، جو مدار میں جوہری اور دیگر وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار رکھنے پر پابندی عائد کرتا ہے، تاہم روایتی ہتھیاروں پر اسی نوعیت کی جامع پابندی موجود نہیں۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس خلا کو پابند قواعد کے ذریعے پُر کیا جانا چاہیے تاکہ خلائی ماحول میں فوجی مسابقت ایسے مرحلے تک نہ پہنچے جہاں اسے واپس موڑنا مشکل ہو۔

حشام احمد نے کانفرنس آن ڈس آرمامنٹ کے تحت ایسے قانونی آلے پر مذاکرات کی حمایت کی جو خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ کو روکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ میزائل دفاعی نظاموں کو خلائی نظاموں کے ساتھ جوڑنے سے دوسرے ممالک جوابی اقدامات اختیار کر سکتے ہیں اور اس طرح عسکری مقابلہ تیز ہو سکتا ہے۔ پاکستان نے یہ مؤقف ایسے وقت میں پیش کیا ہے جب مواصلات، نیویگیشن، موسم، زراعت، قدرتی آفات اور روزمرہ معاشی سرگرمیوں کے لیے سیٹلائٹس پر عالمی انحصار بڑھ رہا ہے۔

پاکستان خود بھی چین کے تعاون سے خلائی صلاحیتیں بڑھا رہا ہے۔ سپارکو نے اکتوبر 2025 میں چین سے اپنا پہلا ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ لانچ کیا تھا، جس کا مقصد قدرتی وسائل، خوراکی تحفظ اور آفات سے نمٹنے کے لیے تفصیلی زمینی تصاویر حاصل کرنا ہے۔ پاکستان پہلے انسانی خلائی مشن کے لیے بھی چین کے ساتھ کام کر رہا ہے اور دو پاکستانی امیدوار تربیت کے مرحلے میں ہیں، جن میں سے ایک کو چین کے تیانگونگ خلائی اسٹیشن پر سائنسی تحقیق کے لیے منتخب کیا جانا ہے۔

پاکستان نے خلائی سلامتی پر اقوام متحدہ کے ایک ورکنگ گروپ میں پابند ذمہ داریوں اور رضاکارانہ اقدامات دونوں سے متعلق تجاویز دی ہیں۔ یہ گروپ 2028 میں جنرل اسمبلی کو سفارشات پیش کرنے والا ہے۔ پاکستانی مطالبہ فی الحال سفارتی پالیسی موقف ہے؛ کسی نئے عالمی معاہدے کی منظوری یا مذاکرات کے حتمی آغاز کا اعلان نہیں ہوا۔