برلن: صدر آصف علی زرداری اور جرمنی کے صدر فرینک والٹر شٹائن مائر نے پاکستان اور جرمنی کے تعلقات کو تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، ٹیکنالوجی، تعلیم، ہنرمندی اور موسمیاتی تعاون سمیت متعدد شعبوں میں مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات برلن میں ہوئی جہاں دوطرفہ تعلقات کے ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی گفتگو کی گئی۔

پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان جرمنی کے ساتھ روایتی شعبوں سے آگے بڑھ کر سائنسی ترقی، صحت، تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت، ٹیکنالوجی، زراعت، تجارت اور صنعت میں عملی تعاون بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے حکومتوں، کاروباری اداروں اور ماہرین کی سطح پر روابط بڑھانے کو باہمی مفاد کے منصوبوں کے لیے اہم قرار دیا۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان اور جرمنی سفارتی تعلقات کے قیام کے 75 سال مکمل کر رہے ہیں۔ سرکاری بیان کے مطابق پاکستانی صدر کا جرمنی کا یہ دورہ 23 سال کے وقفے کے بعد ہوا ہے۔ جرمن صدر نے دوطرفہ کاروبار، تعلیم اور ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے کی امید ظاہر کی، جبکہ صدر زرداری نے جرمنی کو پاکستان کا اہم یورپی شراکت دار قرار دیا۔

ملاقات میں افغانستان سے متعلق چیلنجز بھی زیر بحث آئے۔ صدر زرداری نے پاکستان کا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغان عوام سے تنازع نہیں چاہتا، تاہم اپنی سرزمین کے خلاف دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کو قبول نہیں کرے گا۔ جرمن صدر نے پاکستان کی جانب سے جرمنی جانے والے 500 افغان شہریوں کی تصدیق میں سہولت کاری کو سراہا، جیسا کہ پاکستانی سرکاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے۔

دونوں صدور نے خطے میں تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر بھی بات کی۔ صدر زرداری نے مکہ دفاعی معاہدے کے بارے میں کہا کہ اس کا مقصد علاقائی سلامتی میں معاونت ہے اور یہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں۔ یہ پاکستانی صدر کی جانب سے ملاقات میں بیان کیا گیا مؤقف ہے۔

ملاقات کے بعد وفود کی سطح پر بھی مذاکرات ہوئے۔ پاکستانی وفد میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، صوبائی وزرا، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور جرمنی میں پاکستان کے سفیر شامل تھے۔ صدر زرداری نے جرمن صدر کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی، جس پر جرمن صدر نے مناسب وقت پر دورے پر غور کرنے کی بات کی۔ دونوں ملکوں کے درمیان مستقبل کے تعاون کی عملی سطح کا تعین اب تجارتی، سرمایہ کاری اور ادارہ جاتی رابطوں میں ہونے والی پیش رفت سے ہوگا۔