اسلام آباد: پاکستان میں ساؤتھ ایشین فیڈریشن (سیف) گیمز 4 سے 11 اپریل 2027 تک منعقد کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت تیاریوں سے متعلق اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں ساؤتھ ایشین اولمپک کمیٹی کے ساتھ رابطے کے بعد مقابلوں کی تاریخوں کو حتمی شکل دی گئی۔
سرکاری تفصیلات کے مطابق گیمز میں مجموعی طور پر 28 کھیل شامل ہوں گے اور چھ ہزار سے زائد کھلاڑیوں اور آفیشلز کی شرکت متوقع ہے۔ مقابلوں کے مقامات اسلام آباد، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں رکھے جائیں گے۔ مختلف کھیلوں کے حتمی وینیوز اور روزانہ شیڈول متعلقہ منتظمین کی آئندہ منصوبہ بندی کے بعد جاری کیے جائیں گے۔
اجلاس میں ایک قومی کوآرڈینیٹر کی تقرری کی منظوری کے ساتھ اسٹیئرنگ کمیٹی، آرگنائزنگ کمیٹی اور صوبائی کمیٹیوں کی ساخت بھی منظور کی گئی۔ ان اداروں کو کھیلوں کے انتظام، وینیوز کی تیاری، بین الصوبائی رابطے، کھلاڑیوں کی رہائش، نقل و حرکت اور متعلقہ خدمات کی بروقت فراہمی کے لیے کام کرنا ہوگا۔
اسحاق ڈار نے وفاقی اور صوبائی حکام کو باہمی رابطہ برقرار رکھنے اور کھیلوں کے مقامات کی تیاری مقررہ وقت میں مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ میزبانی کے دوران اعلیٰ انتظامی معیار یقینی بنایا جائے۔ پیش رفت کی مسلسل نگرانی کے لیے اسٹیئرنگ کمیٹی کو ہر ماہ اجلاس منعقد کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
اجلاس میں وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی رابطہ، معاون خصوصی طارق باجوہ، وزارتِ بین الصوبائی رابطہ کے سیکریٹری، صوبائی حکومتوں کے نمائندے اور وفاقی و صوبائی محکموں کے سینئر افسران شریک ہوئے۔ ان کی شمولیت اس لیے اہم ہے کہ مقابلے ایک شہر یا ایک صوبے تک محدود نہیں ہوں گے اور تیاریوں کے لیے مختلف انتظامی سطحوں پر مربوط فیصلے درکار ہیں۔
سیف گیمز جنوبی ایشیا کے ممالک کے درمیان کثیر کھیل مقابلوں کا علاقائی پلیٹ فارم ہیں۔ پاکستان کی میزبانی کے لیے کھیلوں کے انفراسٹرکچر، سکیورٹی، طبی سہولتوں، سفری انتظامات اور بین الاقوامی وفود کی میزبانی سے متعلق تیاریوں کو ایک ہی نظام کے تحت آگے بڑھانا ہوگا۔ چھ ہزار سے زائد متوقع شرکا کے باعث رہائش اور ٹرانسپورٹ بھی انتظامی منصوبہ بندی کے بڑے حصے ہوں گے۔
حتمی کی گئی تاریخیں انعقاد کے مرکزی دورانیے کی تصدیق کرتی ہیں، تاہم ہر کھیل کے مقام، ٹیموں کی حتمی تعداد، مقابلوں کے تفصیلی پروگرام اور ٹکٹنگ سے متعلق مزید معلومات ابھی جاری نہیں کی گئیں۔ ماہانہ نگرانی کا فیصلہ منتظمین کو تیاریوں کی رفتار، وینیوز کی تکمیل اور وفاقی و صوبائی ذمہ داریوں کا باقاعدہ جائزہ لینے کا نظام فراہم کرے گا۔




