ریاض: سعودی عرب کے شہری ہوا بازی کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے دو بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر الگ الگ حملوں میں تین افراد ہلاک اور مجموعی طور پر 36 زخمی ہوئے ہیں۔ سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن کے مطابق چھ اور سات اکتوبر کو ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور دارالحکومت ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ حکام نے بتایا کہ دونوں مقامات پر ہنگامی امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی کی اور زخمیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔

سعودی شہری ہوا بازی کے ادارے کے بیان کے مطابق ابہا ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں مراکش اور الجزائر سے تعلق رکھنے والی دو خواتین رہائشی ہلاک ہوئیں، جبکہ 28 افراد زخمی ہوئے۔ بیان کے مطابق زخمیوں میں سعودی شہریوں کے علاوہ بنگلہ دیش اور فلپائن کے رہائشی بھی شامل تھے اور ان کے زخموں کی نوعیت معمولی سے شدید تک تھی۔ شاہ خالد ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں سوڈان سے تعلق رکھنے والا ایک رہائشی ہلاک اور آٹھ افراد زخمی ہوئے۔

یوں دونوں ہوائی اڈوں پر ہلاک ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد تین اور زخمیوں کی تعداد 36 بنتی ہے۔ ڈان اور اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق زخمیوں میں ایک پاکستانی بھی شامل ہے۔ سعودی حکام نے بتایا کہ حملوں سے بعض املاک کو بھی نقصان پہنچا، تاہم دستیاب بیان میں نقصان کی مجموعی مالی مالیت نہیں بتائی گئی۔

یمن کے حوثی گروہ نے ریاض کے شاہ خالد ایئرپورٹ سمیت مختلف اہداف کی جانب حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ سعودی شہری ہوا بازی کے سرکاری بیان میں دونوں ہوائی اڈوں پر حملوں کی تصدیق کی گئی، تاہم اس بیان نے بذات خود حملہ آور کی شناخت حتمی طور پر متعین نہیں کی۔ اس لیے حوثیوں کی ذمہ داری کے دعوے اور سعودی حکام کی تصدیق شدہ جانی نقصان کی تفصیلات میں فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔

رپورٹ کے مطابق سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے یہ بھی کہا کہ ریاض کی جانب داغے گئے میزائل کے لانچنگ پلیٹ فارم کو تباہ کیا گیا۔ یہ اتحاد کا بیان ہے اور اسے آزادانہ تحقیقات سے سامنے آنے والے نتیجے کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا۔ علاقے میں جاری کشیدگی کے باعث شہری ہوائی اڈوں اور مسافروں کے تحفظ کا معاملہ مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

واقعے سے متعلق فوری طور پر دستیاب قابلِ تصدیق معلومات سعودی شہری ہوا بازی کے ادارے کے بیان، زخمیوں اور ہلاک شدگان کی قومیتوں، اور متعلقہ فریقوں کے اپنے دعووں پر مشتمل ہیں۔ امدادی سرگرمیوں اور مزید تحقیقات کے نتیجے میں سامنے آنے والی معلومات کو الگ سے جانچنے کی ضرورت ہوگی۔