اسلام آباد: پاکستان نے سعودی عرب سے حاصل کردہ 3 ارب ڈالر کی مالی سہولت کی مدت میں توسیع حاصل کر لی ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس پیش رفت کی تصدیق کی اور کہا کہ سعودی عرب نے اس فنانسنگ کو ایک ’’معقول مدت‘‘ کے لیے بڑھا دیا ہے۔ یہ سہولت اپریل 2026 میں پاکستان کو اس وقت فراہم کی گئی تھی جب متحدہ عرب امارات کو واجب الادا رقوم کی ادائیگیوں کے باعث مالی ضرورت پیدا ہوئی تھی، جبکہ اس کی سابقہ مدت 31 اکتوبر کو مکمل ہوئی تھی۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ حالیہ عالمی بینک اور آئی ایم ایف اجلاسوں کے موقع پر ان کی سعودی ہم منصب محمد الجدعان سے ملاقات ہوئی تھی۔ ان کے مطابق پاکستان نے سعودی عرب سے اضافی مالی مدد طلب نہیں کی، کیونکہ زرمبادلہ کے ذخائر اس وقت تین ماہ سے زیادہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں اور حکومت سال کے اختتام تک انہیں چار ماہ کی درآمدی ضروریات کے برابر لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ سعودی عرب کی ایک الگ 5 ارب ڈالر کی سہولت پہلے ہی 2028 تک توسیع پا چکی ہے۔

محمد اورنگزیب نے مجوزہ 10 ارب ڈالر کی امریکی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ فیسلٹی کے بارے میں کہا کہ اگر یہ دستیاب ہوئی تو اضافی لیکویڈیٹی سپورٹ فراہم کرے گی، تاہم حکومت اسے ناگزیر نہیں سمجھتی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سرمایہ منڈیوں تک رسائی حاصل کر چکا ہے اور آئندہ یورو بانڈ، پانڈا بانڈ اور روپے سے منسلک مگر ڈالر میں طے ہونے والے بانڈز کے اجرا کے امکانات بھی زیر غور ہیں۔

وزیر خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی قسط کی منظوری سے متعلق اجلاس دسمبر میں متوقع ہے۔ انہوں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بتایا کہ حکومت رواں مالی سال بیرونی قرض میں 4 ارب ڈالر اور اگلے مالی سال مزید 3.5 ارب ڈالر کمی کا ہدف رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پالیسی کا مقصد مہنگی اور مختصر مدت کی فنانسنگ کو نسبتاً طویل مدت اور کم لاگت ذرائع سے تبدیل کرنا ہے تاکہ بار بار قرض کی تجدید سے پیدا ہونے والے خطرات کم کیے جا سکیں۔

فنانس سیکریٹری امداد اللہ بوسال کے مطابق جون 2026 کے اختتام پر سرکاری قرض جی ڈی پی کے 68.6 فیصد تک آ گیا تھا۔ انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ رواں مالی سال رول اوور اور ری فنانسنگ کے بعد خالص بیرونی فنانسنگ کی ضرورت 11 ارب ڈالر تھی، جس میں سے پہلے چار ماہ کے دوران 5 ارب ڈالر ادا کیے جا چکے ہیں اور باقی سات ماہ میں 6 ارب ڈالر واجب الادا ہیں۔