کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اوپن بینکنگ کے لیے مجوزہ ضوابط کا مسودہ عوامی مشاورت کے لیے جاری کر دیا ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق مجوزہ فریم ورک کا مقصد ایسا منظم نظام قائم کرنا ہے جس میں صارفین اپنی واضح رضامندی کے تحت مالی معلومات کو مجاز تھرڈ پارٹی فراہم کنندگان کے ساتھ محفوظ طریقے سے شیئر کر سکیں اور نئی ڈیجیٹل مالی خدمات سے فائدہ اٹھا سکیں۔

اوپن بینکنگ کا بنیادی تصور یہ ہے کہ بینکوں اور دیگر مالی اداروں میں موجود صارف کا ڈیٹا صرف متعلقہ ادارے تک محدود رہنے کے بجائے، صارف کی اجازت اور مقررہ حفاظتی شرائط کے تحت دوسری مجاز خدمات کے لیے استعمال ہو سکے۔ اس سے اکاؤنٹ معلومات کو ایک جگہ دیکھنے، ذاتی مالی نظم، ادائیگیوں اور نئی فِن ٹیک خدمات کے لیے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ تاہم اس نظام میں صارف کی رضامندی، ڈیٹا کی رازداری، سائبر سکیورٹی اور ذمہ داری کے تعین کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔

مجوزہ قواعد میں شریک اداروں کے کردار، تکنیکی رابطوں، صارف کی اجازت حاصل کرنے اور واپس لینے، ڈیٹا تک رسائی، سکیورٹی کنٹرولز اور شکایات یا تنازعات سے نمٹنے کے اصول متعین کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مرکزی بینک کا ہدف یہ ہے کہ مالی شعبے میں جدت اور مسابقت بڑھے لیکن صارفین کے ڈیٹا اور فنڈز کے تحفظ پر سمجھوتا نہ ہو۔ مسودہ حتمی ضابطہ نہیں ہے اور مشاورتی مرحلے میں موصول ہونے والی آرا کی بنیاد پر اس میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔

پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں، موبائل بینکنگ اور فِن ٹیک خدمات کے بڑھتے استعمال کے تناظر میں اوپن بینکنگ کو مالیاتی نظام کے اگلے مرحلے کی اہم پالیسی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ اگر قواعد حتمی شکل میں نافذ ہوتے ہیں تو بینکوں، الیکٹرانک منی اداروں، فِن ٹیک کمپنیوں اور دیگر اہل فراہم کنندگان کو مشترکہ تکنیکی اور حفاظتی معیارات کے مطابق کام کرنا ہوگا۔ صارفین کے لیے بھی یہ واضح ہونا ضروری ہوگا کہ کون سا ادارہ کس مقصد کے لیے ان کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کر رہا ہے۔

اسٹیٹ بینک نے متعلقہ فریقوں سے مسودے پر رائے طلب کی ہے۔ مشاورت مکمل ہونے کے بعد ہی حتمی فریم ورک اور نفاذ کی تفصیلات سامنے آئیں گی۔ اس مرحلے پر کسی مجوزہ شق کو حتمی قانونی ذمہ داری سمجھنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ مرکزی بینک موصول ہونے والی تجاویز اور عملی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے قواعد میں ترمیم کر سکتا ہے۔