اسلام آباد: سینیٹ نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) آرڈیننس میں ترمیم کا بل منظور کر لیا ہے جس کا بنیادی مقصد گیس کی قیمتوں کے تعین کے موجودہ ششماہی نظام کو سہ ماہی بنیادوں پر منتقل کرنا ہے۔ سرکاری مؤقف کے مطابق اس تبدیلی سے گیس کمپنیوں کے مالی تقاضوں اور صارفین سے وصول ہونے والے ٹیرف کے درمیان وقفہ کم کرنے میں مدد ملے گی اور شعبے میں گردشی قرض کے دباؤ کو محدود کیا جا سکے گا۔

بل کے تحت سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے لیے مقررہ آمدن اور ٹیرف کے تعین کا عمل سال میں دو مرتبہ کے بجائے چار مرتبہ کیا جا سکے گا۔ اوگرا کمپنیوں کی آمدن کی ضروریات، اخراجات اور دیگر متعلقہ عوامل کا جائزہ لے کر وفاقی حکومت کو قیمتوں سے متعلق فیصلہ بھیجے گا۔ اس طریقہ کار کا مقصد درآمدی اور مقامی گیس کی لاگت میں تبدیلیوں کو نسبتاً جلد ٹیرف میں منعکس کرنا ہے۔

ترمیم میں وفاقی حکومت کے فیصلے کے لیے مقررہ مدت سے متعلق بھی تبدیلی تجویز کی گئی ہے۔ دستیاب پارلیمانی رپورٹنگ کے مطابق اگر حکومت اوگرا کی جانب سے بھیجے گئے تعین پر مقررہ وقت میں فیصلہ نہ کرے تو ریگولیٹر کے تعین کو نافذ کرنے کا طریقہ کار موجود ہوگا۔ اس شق کا مقصد قیمتوں کے نوٹیفکیشن میں طویل تاخیر اور اس کے نتیجے میں گیس کمپنیوں کے مالی فرق کو کم کرنا بتایا گیا ہے۔

حکومت کا استدلال ہے کہ موجودہ نظام میں لاگت اور وصولیوں کے درمیان تاخیر سے پیدا ہونے والا فرق گیس شعبے کے گردشی قرض میں اضافہ کرتا ہے۔ سہ ماہی جائزہ اس فرق کو نسبتاً محدود کر سکتا ہے، تاہم صارفین کے لیے اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عالمی توانائی قیمتوں، شرح مبادلہ یا مقامی لاگت میں تبدیلیاں پہلے کے مقابلے میں زیادہ جلد گیس ٹیرف میں ظاہر ہوں۔ ہر سہ ماہی میں قیمت بڑھنا لازمی نہیں ہوگا؛ حتمی سمت اوگرا کے حساب اور حکومتی پالیسی فیصلوں پر منحصر رہے گی۔

بل کی منظوری قانون سازی کے عمل کا ایک مرحلہ ہے اور اسے مکمل قانونی حیثیت حاصل کرنے کے لیے آئینی تقاضوں کے مطابق باقی مراحل سے گزرنا ہوگا۔ اس لیے موجودہ منظوری کو فوری طور پر ہر صارف کے بل میں تبدیلی کے مترادف نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ اصل اثر اس وقت واضح ہوگا جب ترمیم نافذ ہو، اوگرا نئے شیڈول کے مطابق تعین کرے اور متعلقہ ٹیرف نوٹیفکیشن جاری کیے جائیں۔