عالمی بینک گروپ کے بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے سندھ میں شہری جائیداد پر ٹیکس کی وصولی بہتر بنانے اور بلدیاتی خدمات کو مضبوط کرنے کے لیے 150 ملین ڈالر کی مالی معاونت منظور کر لی ہے۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق پروگرام کا خاص فوکس کراچی سمیت سندھ کے شہری علاقوں میں مقامی حکومتوں کی مالی استعداد بڑھانے اور بنیادی شہری خدمات کی فراہمی بہتر بنانے پر ہوگا۔

عالمی بینک کی پاکستان کے لیے کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ سندھ کی مقامی کونسلیں اس وقت اپنی آمدن کے 95 فیصد سے زیادہ حصے کے لیے صوبائی حکومت سے منتقل ہونے والے وسائل پر انحصار کرتی ہیں۔ اس پس منظر میں سندھ پراپرٹی ریونیو انہانسمنٹ پروگرام کا مقصد شہری غیر منقولہ جائیداد ٹیکس کی وصولی میں بہتری لا کر مقامی اداروں کے اپنے مالی وسائل میں اضافہ کرنا ہے۔

پروگرام منتخب مقامی کونسلوں کی خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت مضبوط کرنے پر بھی توجہ دے گا۔ شہری حکومتوں کی پائیدار مالی بنیاد اس لیے اہم سمجھی جاتی ہے کہ نکاسی آب، سیوریج، سڑکوں، اسٹریٹ لائٹنگ اور دیگر مقامی سہولتوں کے معیار اور تسلسل کا انحصار قابلِ پیش گوئی آمدن اور بہتر انتظامی نظام پر ہوتا ہے۔ دیگر شائع شدہ تفصیلات کے مطابق منصوبے میں پراپرٹی سروے اور ٹیکس انتظامیہ کو سندھ کے مزید شہری مقامی اداروں تک وسعت دینے کا عنصر بھی شامل ہے۔

عالمی بینک کے مطابق پروگرام سے صوبائی حکومت کو شہری جائیداد ٹیکس کے نظام کو مؤثر بنانے اور منتخب کونسلوں کی سروس ڈیلیوری بہتر کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔ اس کے نتیجے میں مقامی حکومتوں کا صوبائی منتقلیوں پر انحصار بتدریج کم کرنے اور شہری خدمات کے لیے زیادہ مستحکم وسائل پیدا کرنے کی گنجائش بن سکتی ہے۔

منظوری مالی معاونت کے پروگرام کے آغاز کی ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم عملی نتائج کا انحصار ٹیکس ریکارڈ کی درستگی، جائیدادوں کی کوریج، وصولی کے نظام، مقامی اداروں کی انتظامی صلاحیت اور فنڈز کے مؤثر استعمال پر ہوگا۔ دستیاب سرکاری خبر میں یہ دعویٰ نہیں کیا گیا کہ 150 ملین ڈالر کی پوری رقم براہ راست کسی ایک شہر یا ایک نوعیت کے تعمیراتی کام پر خرچ ہوگی؛ پروگرام کا دائرہ ٹیکس اصلاحات اور بلدیاتی خدمات دونوں کو شامل کرتا ہے۔