کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود زرمبادلہ ذخائر 23 اکتوبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں 3.3 کروڑ ڈالر اضافے کے بعد 21.522 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق مرکزی بینک نے جمعرات کو جاری کردہ تازہ اعدادوشمار میں ہفتہ وار تبدیلی کی تصدیق کی۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق زیر جائزہ ہفتے کے اختتام پر پاکستان کے مجموعی مائع زرمبادلہ ذخائر 26.75 ارب ڈالر تھے۔ ان میں مرکزی بینک کے 21.5217 ارب ڈالر کے ذخائر کے علاوہ کمرشل بینکوں کے پاس 5.233 ارب ڈالر کے خالص ذخائر شامل تھے۔ اس طرح مجموعی ذخائر میں مرکزی بینک کا حصہ بدستور غالب رہا۔
گزشتہ ہفتے اسٹیٹ بینک کے ذخائر 1.9 کروڑ ڈالر بڑھ کر تقریباً 21.49 ارب ڈالر ہوئے تھے۔ تازہ ہفتے میں مزید 3.3 کروڑ ڈالر کا اضافہ حجم کے لحاظ سے محدود ہے، لیکن یہ مرکزی بینک کے ذخائر میں مسلسل دوسرے ہفتے مثبت ہفتہ وار تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ دوسری جانب مجموعی مائع ذخائر 26.75 ارب ڈالر رہے، جن کی سطح مرکزی بینک اور کمرشل بینکوں کے ذخائر میں الگ الگ حرکات سے متاثر ہوتی ہے۔
زرمبادلہ ذخائر کی سطح پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں، درآمدی ضروریات، قرضوں کی ادائیگی اور کرنسی مارکیٹ کے اعتماد کے لیے ایک اہم معاشی اشاریہ سمجھی جاتی ہے۔ تاہم کسی ایک ہفتے کا اضافہ یا کمی مکمل بیرونی مالی پوزیشن کی نمائندگی نہیں کرتا، کیونکہ ذخائر میں قرضوں کی آمد و ادائیگی، سرکاری رقوم، تجارتی بہاؤ اور دیگر مالی لین دین کے باعث باقاعدگی سے تبدیلی آتی رہتی ہے۔
مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ ہفتہ وار اعدادوشمار صرف ذخائر کی مقدار بتاتے ہیں اور تازہ 3.3 کروڑ ڈالر اضافے کے ہر جزو کی الگ تفصیل فراہم نہیں کرتے۔ اس لیے اس تبدیلی کو کسی ایک مخصوص آمد یا ادائیگی سے منسوب کرنا دستیاب اعدادوشمار کی بنیاد پر درست نہیں ہوگا۔
پاکستان کے لیے ذخائر میں پائیدار بہتری کا تعلق برآمدات، ترسیلات زر، سرمایہ کاری، بیرونی فنانسنگ اور درآمدی ادائیگیوں سمیت متعدد عوامل سے ہے۔ آنے والے ہفتوں کے اعدادوشمار سے یہ واضح ہوگا کہ 21.5 ارب ڈالر سے زائد کی مرکزی بینک سطح برقرار رہتی ہے یا بیرونی ادائیگیوں کے باعث اس میں نئی تبدیلی آتی ہے۔
