کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود زرمبادلہ ذخائر میں تازہ ہفتہ وار اعداد و شمار کے مطابق 1 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے ذخائر تقریباً 21.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ 22 اکتوبر کو سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق ملک کے مجموعی مائع زرمبادلہ ذخائر 26.83 ارب ڈالر رہے، جن میں کمرشل بینکوں کے پاس موجود تقریباً 5.34 ارب ڈالر بھی شامل ہیں۔
ہفتہ وار ذخائر کے اعداد و شمار پاکستان کے بیرونی شعبے کی صورتحال جانچنے کے اہم پیمانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ مرکزی بینک کے ذخائر درآمدی ادائیگیوں، بیرونی قرضوں کی ادائیگی اور کرنسی مارکیٹ میں اعتماد کے لیے اہم ہوتے ہیں۔ تازہ اضافہ حجم کے اعتبار سے محدود ہے، تاہم یہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب عالمی توانائی منڈی اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث پاکستان جیسے توانائی درآمد کرنے والے ممالک کے بیرونی کھاتے پر دباؤ کے خدشات زیر بحث ہیں۔
اسی تجارتی روز پاکستانی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی مضبوط ہوا۔ انٹربینک مارکیٹ میں روپیہ ایک پیسے کی بہتری کے ساتھ 276.85 روپے فی ڈالر پر بند ہوا، جبکہ گزشتہ روز اختتامی شرح 276.86 روپے تھی۔ ایک دن کی معمولی تبدیلی کو طویل مدتی رجحان قرار نہیں دیا جاسکتا، تاہم ذخائر اور شرح مبادلہ کے اعداد و شمار کو سرمایہ کار اور کاروباری ادارے بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے تناظر میں مسلسل دیکھتے ہیں۔
پاکستان نے گزشتہ عرصے میں بیرونی کھاتے کو مستحکم کرنے کے لیے درآمدات، ترسیلات زر، برآمدی آمدن اور کثیرالجہتی و دوطرفہ مالی معاونت پر توجہ دی ہے۔ ذخائر میں تبدیلی ان تمام عوامل کے ساتھ قرضوں کی وصولیوں اور ادائیگیوں سے بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ اس لیے کسی ایک ہفتے کا اضافہ یا کمی بذات خود معیشت کی مجموعی سمت کا مکمل پیمانہ نہیں ہوتا۔
تازہ دستیاب اعداد و شمار کا قابل تصدیق نکتہ یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں 19 ملین ڈالر اضافہ ہوا اور مجموعی ملکی مائع ذخائر 26.83 ارب ڈالر رہے۔ مستقبل کے ذخائر کا انحصار تجارتی بہاؤ، قرضوں کی ادائیگی، سرکاری فنانسنگ اور عالمی اجناس کی قیمتوں سمیت متعدد عوامل پر ہوگا۔

