اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں 4 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران 1.2 ارب ڈالر کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود ذخائر 18.328 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ ہفتہ وار اضافے کی بنیادی وجہ حکومتِ پاکستان کو کمرشل قرض کی مد میں موصول ہونے والی رقوم ہیں۔
مرکزی بینک کے جاری کردہ اعداد کے مطابق ملک کے مجموعی مائع زرمبادلہ ذخائر 23.715 ارب ڈالر رہے۔ اس مجموعے میں کمرشل بینکوں کے پاس موجود 5.387 ارب ڈالر بھی شامل ہیں۔ یوں سرکاری ذخائر مجموعی ذخائر کا بڑا حصہ ہیں، جبکہ نجی کمرشل بینکوں کے ذخائر الگ شمار کیے جاتے ہیں۔
زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں، درآمدی ضروریات اور کرنسی مارکیٹ کے لیے اہم اشارہ سمجھا جاتا ہے، تاہم ایک ہفتے کی بڑی چھلانگ کے اسباب کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ اس مرتبہ اسٹیٹ بینک نے واضح طور پر بتایا ہے کہ اضافہ کمرشل قرض کے سرکاری وصول شدہ فنڈز سے ہوا، اس لیے اسے صرف برآمدی آمدن یا ترسیلاتِ زر میں اضافے کا نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
قرض کی شکل میں آنے والی بیرونی رقوم فوری طور پر ذخائر کو سہارا دیتی ہیں، لیکن ان کے ساتھ مستقبل میں اصل رقم اور مالی لاگت کی ادائیگی کی ذمہ داری بھی وابستہ ہوتی ہے۔ اسی لیے معاشی تجزیے میں ذخائر کی سطح کے ساتھ ان کے ذرائع، بیرونی قرضوں کی میعاد، جاری کھاتے کی صورت حال اور درآمدی ادائیگیوں کو بھی دیکھا جاتا ہے۔
تازہ اعداد ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب علاقائی کشیدگی اور عالمی توانائی منڈی میں اتار چڑھاؤ پاکستان کے درآمدی بل پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔ زیادہ ذخائر بیرونی جھٹکوں کے مقابلے میں ایک مالی بفر فراہم کرتے ہیں، تاہم ان کی پائیداری کا انحصار مستقبل کے بیرونی بہاؤ، برآمدات، ترسیلات، سرمایہ کاری اور قرضوں کی ادائیگیوں کے توازن پر ہوگا۔ اسٹیٹ بینک کی تازہ رپورٹ فی الحال 4 ستمبر تک کی ہفتہ وار پوزیشن کی عکاسی کرتی ہے۔




