کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے کہا ہے کہ محتاط میکرو اکنامک پالیسیوں اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے پاکستانی معیشت کو داخلی اور بیرونی جھٹکوں کے مقابلے میں پہلے سے زیادہ مضبوط بنایا ہے۔ ڈان اور بزنس ریکارڈر کی 18 اکتوبر کی رپورٹس کے مطابق انہوں نے یہ مؤقف 12 سے 17 اکتوبر تک بنکاک میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر عالمی مالیاتی اداروں، سرمایہ کاروں، کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں اور دیگر شراکت داروں سے ملاقاتوں میں پیش کیا۔
اسٹیٹ بینک کے بیان کے مطابق جمیل احمد نے بتایا کہ مالی سال 2022-23 میں بلند سطح پر موجود مہنگائی بعد کے برسوں میں نمایاں طور پر کم ہوئی اور مالی سال 2025-26 میں تقریباً ہدفی حدود تک آگئی، اگرچہ اس دوران تیل کی قیمتوں کا بڑا بیرونی جھٹکا بھی سامنے آیا۔ حقیقی جی ڈی پی، جو FY23 میں سکڑی تھی، بتدریج بحال ہوئی اور FY26 میں 3.7 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی۔ مرکزی بینک نے FY27 کے لیے 3.5 سے 4.5 فیصد کے درمیان حقیقی معاشی نمو کی توقع ظاہر کی ہے۔
گورنر کے مطابق اسٹیٹ بینک کے سرکاری زرمبادلہ ذخائر فروری 2023 میں 3 ارب ڈالر سے کم سطح سے بڑھ کر 9 اکتوبر 2026 تک 21.5 ارب ڈالر ہوگئے، جبکہ فارورڈ واجبات 5.7 ارب ڈالر سے زیادہ کی سطح سے کم ہو کر ایک ارب ڈالر سے نیچے آگئے۔ مرکزی بینک نے اس بہتری کا بڑا حصہ اپنی زرمبادلہ خریداریوں سے منسلک کیا اور کہا کہ گزشتہ تین برس میں بیرونی قرضوں کے مجموعی اسٹاک میں صرف محدود اضافہ ہوا۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق FY26 میں کرنٹ اکاؤنٹ تقریباً متوازن رہا، جس سے بینک کو زرمبادلہ خریدنے میں سہولت ملی۔ FY27 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ صفر سے ایک فیصد جی ڈی پی کے اندر رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ مالیاتی محاذ پر گورنر نے FY26 میں مسلسل تیسرے سال پرائمری سرپلس اور سرکاری قرض کے جی ڈی پی کے تناسب میں کمی کا بھی ذکر کیا۔
یہ تمام اعداد اور آئندہ سال کی پیش گوئیاں مرکزی بینک کے بیان اور گورنر کی سرمایہ کاروں کو دی گئی بریفنگ پر مبنی ہیں۔ عالمی جغرافیائی سیاسی کشیدگی، توانائی قیمتوں اور مالی حالات جیسے عوامل ان تخمینوں پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ جمیل احمد نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کا ہدف حاصل شدہ میکرو اکنامک استحکام کا تحفظ، بیرونی مالیاتی بفرز کو مزید مضبوط کرنا اور پائیدار نمو کے لیے اصلاحات کو آگے بڑھانا ہے۔

