کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے قرض اور دیگر فنانسنگ تک رسائی آسان بنانے کی غرض سے SMEConnect کے نام سے مرکزی ڈیجیٹل پورٹل شروع کر دیا ہے۔ مرکزی بینک کے 29 اکتوبر کے سرکلر کے مطابق یہ پلیٹ فارم ایس ایم ایز اور بینکوں و ترقیاتی مالیاتی اداروں کے درمیان واحد ڈیجیٹل رابطہ نظام کے طور پر کام کرے گا۔

اسٹیٹ بینک نے تمام بینکوں اور ڈی ایف آئیز کو ہدایت کی ہے کہ یکم نومبر 2026 سے ایس ایم ای فنانسنگ کی تمام درخواستیں SMEConnect کے ذریعے وصول کی جائیں۔ اگر کوئی درخواست گزار براہ راست کسی بینک یا ڈی ایف آئی کی شاخ میں جائے تو متعلقہ عملہ اسے پورٹل پر ڈیجیٹل درخواست جمع کرانے میں رہنمائی اور سہولت فراہم کرے گا۔ اسی طرح بینکوں کی اپنی ویب سائٹس سے فنانسنگ کے لیے آنے والے درخواست گزاروں کو بھی مرکزی پورٹل کی طرف بھیجا جائے گا۔

مرکزی بینک کے مطابق پورٹل کا مقصد درخواست کے عمل کو یکساں، زیادہ قابل رسائی اور شفاف بنانا ہے۔ درخواست گزار اپنی فنانسنگ درخواست کی پیش رفت دیکھ سکیں گے اور درخواست مسترد ہونے کی صورت میں مسترد کیے جانے کی وجہ سے بھی آگاہ ہو سکیں گے۔ اس سے مختلف بینکوں کے الگ الگ طریقہ کار کے بجائے ایک مشترکہ داخلی راستہ میسر آئے گا۔

اسٹیٹ بینک نے بینکوں اور ڈی ایف آئیز کو اپنی ویب سائٹس اور موبائل ایپس پر SMEConnect کا لنک نمایاں طور پر دکھانے اور دستیاب تشہیری ذرائع سے کاروباری صارفین میں آگاہی پیدا کرنے کی ہدایت کی ہے۔ بینک شاخوں کے عملے کو بھی درخواست گزاروں کی ڈیجیٹل عمل میں مدد کرنا ہوگی۔ مرکزی بینک کے لیے پورٹل کے ذریعے درخواستوں کے موصول ہونے، ان پر کارروائی، منظوری، رقم کے اجرا اور مسترد ہونے سے متعلق مجموعی معلومات کی نگرانی ممکن ہوگی۔

نئے انتظام کے نفاذ کے ساتھ ایس ایم ای فنانسنگ سے متعلق پروڈینشل ریگولیشنز کی وہ سابق شرط واپس لی جا رہی ہے جس کے تحت ہر بینک یا ڈی ایف آئی کو اپنے طور پر درخواست گزاروں کے لیے ڈیجیٹل درخواست کی سہولت دینا ضروری تھا۔ اب مرکزی پلیٹ فارم اس کردار کو سنبھالے گا۔

یہ اقدام خودکار طور پر قرض کی منظوری یا ہر درخواست گزار کے لیے فنانسنگ کی ضمانت نہیں دیتا۔ قرض دینے کا فیصلہ متعلقہ بینک یا ڈی ایف آئی اپنی کریڈٹ جانچ، ضابطوں اور درخواست گزار کی مالی اہلیت کے مطابق کرے گا۔ تاہم ایک مرکزی پورٹل متعارف ہونے سے درخواست جمع کرانے اور اس کی پیش رفت معلوم کرنے کے عمل کو زیادہ واضح بنانے کی توقع ہے، جبکہ اسٹیٹ بینک کو ایس ایم ای فنانسنگ کے نظام کی نگرانی کے لیے بروقت ڈیٹا بھی دستیاب ہوگا۔