کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے چیک کلیئرنگ کے نظام کو جدید بنانے کے لیے پاکستان ایکسپریس کلیئرنگ سسٹم (PECS) متعارف کرا دیا ہے۔ نئے نظام میں بینکوں کے درمیان چیک کی کاغذی نقل منتقل کرنے کے بجائے اس کی ڈیجیٹل تصویر اور متعلقہ معلومات کی بنیاد پر کلیئرنگ کی جائے گی، جس سے موجودہ عمل کو زیادہ تیز اور مؤثر بنانے کا مقصد رکھا گیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے طے کردہ نفاذی منصوبے کے مطابق PECS کا پائلٹ مرحلہ 15 اکتوبر 2026 سے شروع ہوگا۔ پہلے مرحلے میں منتخب کلیئرنگ ہاؤس شریک اداروں کو شامل کیا جائے گا اور 15 نومبر تک ان کے نتائج کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے بعد 16 نومبر سے 31 دسمبر 2026 تک باقی شریک اداروں کو نظام میں لانے کا مرحلہ شروع ہوگا، جبکہ مکمل ملک گیر نفاذ 30 اپریل 2027 تک مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

نیا نظام چیک ٹرنکیشن کے اصول پر مبنی ہے۔ اس طریقہ کار میں وصول کرنے والا یا پیش کرنے والا بینک چیک کی تصویر حاصل کرے گا اور اسے نیشنل انسٹی ٹیوشنل فسیلیٹیشن ٹیکنالوجیز، یعنی NIFT، کے ذریعے ادائیگی کرنے والے بینک تک پہنچایا جائے گا۔ اس طرح چیک کو ایک بینک یا شہر سے دوسرے مقام تک جسمانی طور پر بھیجنے کی ضرورت کم ہو جائے گی۔

اسٹیٹ بینک نے شریک مالیاتی اداروں کو PECS کے لیے ضروری تکنیکی انفراسٹرکچر تیار کرنے، فوکل پرسن نامزد کرنے اور پیش رفت کی باقاعدہ رپورٹنگ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اداروں کو کلیئرنگ ٹائم لائن، صارف خدمات اور سیٹلمنٹ کی ذمہ داریوں پر عمل یقینی بنانا ہوگا تاکہ نظام کی تبدیلی کے دوران چیک ادائیگیوں میں خلل نہ پڑے۔

پائلٹ مدت کے دوران روزانہ ایک اضافی PECS کلیئرنگ سائیکل بھی چلایا جائے گا جس کی تفصیل کلیئرنگ ہاؤس اسٹیٹ بینک کو فراہم کرے گا۔ بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کو عوامی آگاہی مہم چلانے اور متعلقہ عملے کو نئے عمل کی تربیت دینے کی بھی ذمہ داری دی گئی ہے۔

یہ اقدام پاکستان کے ادائیگیوں کے نظام میں ڈیجیٹل منتقلی کی ایک اور کڑی ہے۔ تاہم چیک کے ذریعے ادائیگی مکمل طور پر ختم نہیں ہو رہی؛ بنیادی تبدیلی یہ ہے کہ کلیئرنگ کا پس پردہ عمل کاغذی نقل سے تصویر پر مبنی نظام میں منتقل ہوگا۔ اس کا عملی فائدہ اس وقت واضح ہوگا جب پائلٹ نتائج، تکنیکی استحکام، بینکوں کی تیاری اور صارف شکایات کے اعداد سامنے آئیں گے۔