اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ریگولیٹری سینڈ باکس کا دوسرا کوہورٹ شروع کر دیا ہے، جس کے تحت منتخب افراد اور اداروں کو محدود اور نگرانی شدہ ماحول میں نئی مالیاتی ٹیکنالوجیز اور خدمات آزمانے کا موقع دیا جائے گا۔ اسٹیٹ بینک کی ویب سائٹ اور بزنس ریکارڈر کے مطابق دوسرے کوہورٹ کے لیے درخواستیں 30 نومبر 2026 تک قبول کی جائیں گی۔

مرکزی بینک نے اس مرحلے کے لیے چار بنیادی موضوعات مقرر کیے ہیں: مالیاتی خدمات میں مصنوعی ذہانت کا استعمال، ادائیگیوں میں جدت، ٹیکنالوجی کے ذریعے بیرون ملک سے آنے والی ترسیلات زر کی سہولت، اور اوپن تھیم کے تحت نئی نسل کی مالیاتی خدمات۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق صرف وہ تجاویز زیر غور آئیں گی جو مقررہ موضوعات اور سینڈ باکس کے دائرہ کار میں ہوں گی۔

ریگولیٹری سینڈ باکس کا مقصد ایسی اختراعات کو حقیقی یا نیم حقیقی حالات میں محدود پیمانے پر جانچنا ہے جن کے لیے موجودہ ضابطوں میں وضاحت یا نئی پالیسی رہنمائی کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ اس سے ریگولیٹر کو نئی ٹیکنالوجی کے ممکنہ فوائد، عملی خطرات، صارفین کے تحفظ اور مالی استحکام سے متعلق سوالات کا جائزہ لینے کا موقع ملتا ہے، جبکہ درخواست دہندگان اپنی مصنوعات یا خدمات کے قابلِ عمل ہونے کو آزما سکتے ہیں۔

اسٹیٹ بینک نے ریگولیٹری سینڈ باکس کا آغاز اگست 2025 میں کیا تھا اور پہلے کوہورٹ کو جون 2026 میں مکمل کیا گیا۔ مرکزی بینک نے اسے اپنی Vision 2028 حکمت عملی کے تحت ڈیجیٹل مالیاتی خدمات میں ذمہ دارانہ جدت کے فروغ سے جوڑا ہے۔ دوسرے کوہورٹ میں AI اور next-generation financial services کو شامل کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریگولیٹر اب تیزی سے ابھرتی ٹیکنالوجیز کے لیے عملی نگرانی کا دائرہ بڑھا رہا ہے۔

سینڈ باکس میں شمولیت کسی تجارتی پروڈکٹ کی مکمل قانونی منظوری یا مستقل لائسنس کے برابر نہیں ہوگی۔ درخواستوں کا انتخاب، ٹیسٹنگ کی حدود اور ممکنہ ریگولیٹری نتیجہ اسٹیٹ بینک کے مقررہ معیار کے مطابق الگ مرحلوں میں طے ہوگا۔ اس لیے دوسرے کوہورٹ کا آغاز بنیادی طور پر درخواست اور آزمائش کا مرحلہ ہے، نہ کہ تمام پیش کردہ حلوں کی حتمی منظوری۔