کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بینکوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کی میوچل فنڈز اور دیگر اجتماعی سرمایہ کاری اسکیموں میں سرمایہ کاری کے لیے کیپیٹل ایڈیکویسی سے متعلق قواعد میں تبدیلی جاری کر دی ہے۔ نئے فریم ورک کا مقصد ایسی سرمایہ کاری کے بنیادی اثاثوں اور رسک کی نوعیت کو زیادہ درست انداز میں مالیاتی اداروں کے سرمائے کی ضرورت سے جوڑنا ہے۔

مرکزی بینک کی ہدایات کے مطابق نئی شرائط 31 دسمبر 2026 سے قابل اطلاق ہوں گی۔ نظرثانی بین الاقوامی بینکاری معیارات اور باسل فریم ورک میں فنڈ سرمایہ کاری کے لیے اختیار کیے گئے رسک پر مبنی طریقہ کار سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔ اس سے بینکوں کو مختلف فنڈز میں سرمایہ کاری کے لیے یکساں عمومی وزن لگانے کے بجائے دستیاب معلومات کے مطابق زیادہ مخصوص طریقے سے رسک کا حساب کرنا ہوگا۔

فریم ورک میں ایسے طریقے شامل ہیں جن کے ذریعے مالیاتی ادارہ کسی فنڈ کے underlying exposures یعنی بنیادی سرمایہ کاری کی نوعیت کو دیکھ کر مطلوبہ سرمایہ متعین کر سکتا ہے۔ جہاں مکمل تفصیلات دستیاب نہ ہوں وہاں زیادہ محتاط یا متبادل طریقہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ فنڈ کے ذریعے بالواسطہ لیے گئے کریڈٹ، مارکیٹ یا دیگر مالی خطرات بینک کے ریگولیٹری سرمائے میں مناسب طور پر ظاہر ہوں۔

بینکوں اور ڈی ایف آئیز کے لیے میوچل فنڈز اہم سرمایہ کاری ذرائع ہیں، لیکن فنڈ کی ساخت کے باعث اصل خطرہ براہ راست کسی ایک سکیورٹی کی خریداری کے مقابلے میں کم واضح ہو سکتا ہے۔ نئے قواعد اسی مسئلے کو حل کرتے ہوئے اداروں سے زیادہ تفصیلی رسک اسیسمنٹ کا تقاضا کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں مختلف فنڈز کے لیے کیپیٹل چارج ان کے پورٹ فولیو اور دستیاب شفافیت کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔

مرکزی بینک نے مالیاتی اداروں کو نفاذ کی تاریخ سے پہلے اپنے نظام، ڈیٹا اور رپورٹنگ انتظامات تیار کرنے کا وقت دیا ہے۔ بینکوں کو اپنے سرمایہ کاری پورٹ فولیو، فنڈ مینیجرز سے حاصل ہونے والی معلومات اور ریگولیٹری کیپیٹل کیلکولیشن کے طریقہ کار کا جائزہ لینا ہوگا تاکہ نئی شرائط کے مطابق رپورٹنگ ممکن ہو سکے۔

یہ تبدیلی اسٹیٹ بینک کی وسیع تر احتیاطی نگرانی کا حصہ ہے، جس میں مالیاتی اداروں کے سرمائے کو ان کے حقیقی خطرات کے تناسب سے برقرار رکھنے پر زور دیا جاتا ہے۔ نئی ہدایات کسی مخصوص فنڈ کی کارکردگی یا منافع کی ضمانت نہیں دیتیں بلکہ بینکنگ نظام میں ایسی سرمایہ کاری سے پیدا ہونے والے رسک کو سرمائے کے حساب میں بہتر طور پر شامل کرنے کے لیے ریگولیٹری طریقہ فراہم کرتی ہیں۔