اسلام آباد: شنگھائی تعاون تنظیم کے علاقائی انسدادِ دہشت گردی ڈھانچے (SCO-RATS) کی کونسل کا 46واں اجلاس اسلام آباد میں پاکستان کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں رکن ممالک نے دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے خلاف مشترکہ اقدامات کا جائزہ لیا اور آئندہ تعاون کے کئی عملی منصوبوں کی منظوری دی۔ اجلاس کے اختتام کے ساتھ پاکستان کی کونسل کی صدارت مکمل ہوئی اور اگلی مدت کے لیے چیئرمین شپ روس کو منتقل کر دی گئی۔

ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان اور بزنس ریکارڈر کے مطابق اجلاس میں بیلاروس، بھارت، ایران، قازقستان، چین، کرغزستان، روس، تاجکستان اور ازبکستان سمیت رکن ممالک کے وفود اور SCO-RATS ایگزیکٹو کمیٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ کونسل نے سابقہ فیصلوں پر عمل درآمد کی پیش رفت کا جائزہ لیا اور انسدادِ دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی سے متعلق آئندہ ورک پلانز کی منظوری دی۔

اجلاس کے اعلامیے میں ایران پر ہونے والے نئے فوجی حملوں کی مذمت کی گئی اور ایرانی قیادت و عوام سے جانی نقصان پر تعزیت کا اظہار کیا گیا۔ رکن ممالک نے ایران کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے احترام کی حمایت دہراتے ہوئے کشیدگی کم کرنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ یہ موقف SCO-RATS کونسل کے اجتماعی اعلامیے کے طور پر سامنے آیا، نہ کہ کسی ایک رکن ملک کے یکطرفہ بیان کے طور پر۔

کونسل نے 2027 کے لیے مشترکہ معلوماتی آپریشن، دہشت گرد اور انتہا پسند عناصر کی جانب سے انٹرنیٹ کے استعمال سے متعلق ایک تخصصی سیمینار اور آن لائن پلیٹ فارمز کے غلط استعمال کے مقابلے کے لیے مشترکہ انسدادِ دہشت گردی مشق کی تیاری پر بھی اتفاق کیا۔ اجلاس میں اطلاعاتی انفراسٹرکچر، رکن ممالک کے اداروں کے درمیان رابطے اور خطرات سے متعلق بروقت معلومات کے تبادلے کو بہتر بنانے پر زور دیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق انسدادِ دہشت گردی کے متعلقہ اداروں کی تیرہویں بین الاقوامی کانفرنس قازقستان میں منعقد کرنے پر بھی اتفاق ہوا، جبکہ SCO-RATS کونسل کا اگلا اجلاس تاشقند میں متوقع ہے۔ پاکستان نے اپنی صدارت کے دوران رکن ممالک کے درمیان ادارہ جاتی تعاون مضبوط بنانے، مشترکہ اقدامات کی تیاری اور علاقائی سلامتی کے خطرات کے خلاف مربوط ردعمل کو ترجیح دی۔

SCO-RATS شنگھائی تعاون تنظیم کا وہ مستقل علاقائی ڈھانچہ ہے جو دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے خلاف رکن ممالک کے متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ اور عملی تعاون منظم کرتا ہے۔ اسلام آباد اجلاس کے فیصلے اس تعاون کو 2027 کے مشترکہ پروگراموں تک آگے بڑھانے کا فریم ورک فراہم کرتے ہیں۔