کراچی: قطر سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا دوسرا کارگو پاکستان پہنچ گیا ہے، جس کے بعد درآمدی گیس کو ری گیسیفائی کرکے قومی گیس نظام میں شامل کرنے کا عمل آگے بڑھے گا۔ تازہ کھیپ پورٹ قاسم پر پہنچی ہے اور توانائی شعبے کے حکام کو توقع ہے کہ اس سے ملک میں گیس کی دستیابی بہتر بنانے، بالخصوص بڑھتی ہوئی موسمی طلب کے دوران، مدد ملے گی۔

پاکستان اپنی مقامی قدرتی گیس کی پیداوار میں کمی اور گھریلو، صنعتی اور بجلی کے شعبوں کی طلب کے فرق کو پورا کرنے کے لیے ایل این جی درآمد کرتا ہے۔ سمندر کے راستے آنے والی مائع گیس کو ٹرمینل پر دوبارہ گیس کی شکل دی جاتی ہے اور پھر پائپ لائن نیٹ ورک کے ذریعے مختلف صارفین تک پہنچایا جاتا ہے۔ قطر پاکستان کے لیے ایل این جی کا اہم سپلائر رہا ہے اور طویل مدتی انتظامات کے تحت آنے والے کارگوز توانائی کی منصوبہ بندی میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔

تازہ کارگو کی آمد اس لیے بھی اہم ہے کہ موسم سرد ہونے کے ساتھ گھریلو صارفین کے لیے گیس کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی دوران صنعت، کھاد سازی اور بجلی کی پیداوار جیسے شعبے بھی گیس کے بڑے صارف ہیں۔ درآمدی ایل این جی کی بروقت دستیابی سے نظام میں اضافی مقدار شامل ہو سکتی ہے، لیکن صارفین تک حقیقی فراہمی کا انحصار مجموعی طلب، مقامی پیداوار، پائپ لائن کی گنجائش اور حکومت کی ترجیحی تقسیم کی پالیسی پر بھی رہتا ہے۔ اس لیے ایک کارگو کی آمد کو ملک بھر میں ہر سطح پر لوڈ مینجمنٹ کے خاتمے کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔

توانائی حکام کے لیے ایل این جی سپلائی کی مسلسل آمد زرمبادلہ، درآمدی لاگت اور توانائی تحفظ کے درمیان توازن کا معاملہ بھی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور شپنگ شیڈول میں تبدیلیاں درآمدی منصوبہ بندی کو متاثر کر سکتی ہیں۔ پورٹ قاسم پر پہنچنے والی تازہ کھیپ کو طے شدہ تکنیکی مراحل کے بعد سسٹم میں شامل کیا جائے گا۔ اس عمل کی تکمیل کے ساتھ گیس کمپنیوں کو دستیاب مجموعی مقدار میں اضافہ ہوگا اور موسمِ سرما کی سپلائی مینجمنٹ کے لیے اضافی گنجائش میسر آئے گی۔