اسلام آباد: سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) نے ملک میں بیمہ کی رسائی بڑھانے اور صارفین کو مصنوعات و متعلقہ معلومات تک آسان ڈیجیٹل رسائی دینے کے لیے ’انشورڈ پاکستان‘ کے نام سے ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان SECP Talk Series کے دوران کیا گیا، جہاں چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے انشورنس شعبے میں ڈیجیٹل تبدیلی کو مالی شمولیت، کم لاگت رسائی اور صارف دوست خدمات کے لیے اہم قرار دیا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق SECP چیئرمین نے بتایا کہ پاکستان کی انشورنس صنعت کے اثاثے تقریباً چار ٹریلین روپے اور سالانہ پریمیم تقریباً 708 ارب روپے ہیں، جبکہ انشورنس penetration مجموعی ملکی پیداوار کے تقریباً 0.7 فیصد کے برابر ہے۔ Dawn کی رپورٹ کے مطابق ڈیجیٹل ذرائع سے پیدا ہونے والے پریمیم کا حصہ صرف تقریباً 0.85 فیصد بتایا گیا، جسے ریگولیٹر نے ٹیکنالوجی کے ذریعے توسیع کی گنجائش کی علامت قرار دیا۔
مجوزہ ’انشورڈ پاکستان‘ پلیٹ فارم کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس کا مقصد صارفین کو مختلف بیمہ مصنوعات، معلومات اور متعلقہ خدمات تک ایک ڈیجیٹل راستہ فراہم کرنا ہے۔ دستیاب رپورٹس میں پلیٹ فارم کے مکمل آغاز کی حتمی تاریخ نہیں دی گئی، اس لیے اس پیش رفت کو فی الحال قیام کے اعلان اور پالیسی سمت کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے، نہ کہ پہلے سے مکمل طور پر فعال قومی پورٹل کے طور پر۔
SECP نے دعووں کے تصفیے کو زیادہ بروقت، شفاف اور منصفانہ بنانے، مصنوعی ذہانت اور دوسری ابھرتی ٹیکنالوجیز کے استعمال اور صارفین کے تجربے کو بہتر کرنے کے اقدامات پر بھی زور دیا۔ چیئرمین کے مطابق موٹر انشورنس میں بہت بڑی coverage gap موجود ہے اور انہوں نے اندازہ ظاہر کیا کہ ملک میں تقریباً 97 فیصد گاڑیاں انشورنس کے بغیر چل رہی ہیں۔ یہ شرح چیئرمین کی بیان کردہ تخمینی صورتحال ہے، آزادانہ سرکاری مردم شماری یا حتمی رجسٹری کی تصدیق شدہ شرح نہیں۔
رپورٹ کے مطابق SECP پنجاب حکومت کے ساتھ گاڑیوں کے انشورنس ریکارڈ کو رجسٹریشن اور enforcement نظام سے ڈیجیٹل طور پر جوڑنے پر بھی کام کر رہا ہے۔ چیئرمین نے مؤثر نفاذ کی صورت میں third-party motor insurance کی coverage میں نمایاں اضافے کا امکان ظاہر کیا۔ اس تخمینے کو بھی ریگولیٹری عہدیدار کے اندازے کے طور پر پیش کیا گیا ہے، کیونکہ اس کا اصل نتیجہ نفاذ، ڈیٹا انضمام اور صارفین کی تعمیل پر منحصر ہوگا۔
تقریب میں صنعت کے حجم اور claims ادائیگیوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ State Life کے چیف ایگزیکٹو کے حوالے سے بتایا گیا کہ پاکستان میں 42 insurers کام کر رہے ہیں اور شعبے نے تقریباً 450 ارب روپے کے claims ادا کیے۔ زندگی اور فیملی تکافل کے پریمیم 462 ارب روپے، claims 373 ارب روپے اور اثاثے 3.30 ٹریلین روپے بتائے گئے، جبکہ non-life اور general takaful کے پریمیم تقریباً 245 ارب روپے، claims 70 ارب روپے اور اثاثے 720 ارب روپے رپورٹ ہوئے۔
SECP کی موجودہ حکمت عملی کا مرکزی نکتہ بیمہ کو زیادہ ڈیجیٹل، قابل رسائی اور صارف مرکوز بنانا ہے۔ تاہم اعلان کردہ پلیٹ فارم اور متعلقہ ڈیجیٹل integration کے عملی اثرات کا درست اندازہ اسی وقت ممکن ہوگا جب ان کے نفاذ کی تفصیلی ٹائم لائن، مصنوعات کی شمولیت، صارف تحفظ کے طریقہ کار اور استعمال کے اعداد سامنے آئیں گے۔
