اسلام آباد: سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے نان بینک مائیکرو فنانس کمپنیوں کے ذریعے مائیکرو انٹرپرائز اور ہاؤسنگ فنانس کے لیے زیادہ سے زیادہ قرض کی حد 50 لاکھ روپے تک بڑھانے کی تجویز پیش کی ہے۔ کمیشن نے انفرادی قرض گیر کے لیے آمدنی کی حد بھی 12 لاکھ روپے سے بڑھا کر 15 لاکھ روپے کرنے کی تجویز دی ہے۔ یہ تجاویز نان بینکنگ فنانس کمپنیز اینڈ نوٹیفائیڈ اینٹٹیز ریگولیشنز 2008 میں مجوزہ ترامیم کے مسودے کا حصہ ہیں، جسے عوامی مشاورت کے لیے جاری کیا گیا ہے۔
ڈان کے مطابق ایس ای سی پی کا کہنا ہے کہ مجوزہ تبدیلیوں کا مقصد نان بینک فنانس کمپنیوں کو کاروباروں، گھرانوں اور افراد کی بڑھتی ہوئی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے زیادہ گنجائش دینا ہے۔ اس کے ساتھ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی درجہ بندی کے لیے سالانہ ٹرن اوور کی حدود میں بھی تبدیلی تجویز کی گئی ہے۔
مسودے کے مطابق چھوٹے کاروبار کے لیے سالانہ ٹرن اوور کی مجوزہ حد 3 کروڑ روپے سے 40 کروڑ روپے تک ہو گی، جبکہ موجودہ فریم ورک میں اس کی بالائی حد 15 کروڑ روپے ہے۔ درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے 40 کروڑ سے 2 ارب روپے تک سالانہ ٹرن اوور کی حد تجویز کی گئی ہے، جب کہ موجودہ دائرہ 15 کروڑ سے 80 کروڑ روپے تک ہے۔
ایس ای سی پی نے کہا ہے کہ ان ترامیم سے نان بینک فنانس کمپنیوں کے لیے زیادہ وسیع کاروباری طبقے اور قرض گیروں کو خدمات دینے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ تاہم یہ نکات ابھی حتمی قواعد نہیں ہیں؛ انہیں عوامی مشاورت کے لیے مسودے کی صورت میں جاری کیا گیا ہے اور حتمی شکل مشاورتی عمل کے بعد سامنے آئے گی۔ اس لیے قرض کی نئی حدود کو فوری طور پر نافذ شدہ شرط سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
پاکستان میں چھوٹے کاروبار اور ہاؤسنگ فنانس تک رسائی طویل عرصے سے مالی شمولیت کی بحث کا حصہ رہی ہے۔ مجوزہ قواعد اس شعبے میں قرض دینے والے نان بینک اداروں کے ریگولیٹری دائرے کو وسعت دینے کی کوشش ہیں، تاہم عملی اثرات کا انحصار حتمی ضوابط، متعلقہ کمپنیوں کی کریڈٹ پالیسیوں اور قرض لینے والوں کی اہلیت کے معیار پر ہوگا۔
