اسلام آباد: سینیٹ میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) ترمیمی بل 2026 پیش کیا گیا ہے جس میں قدرتی گیس کی قیمتوں کے بعض اجزا کا سہ ماہی بنیاد پر تعین کرنے کا نیا طریقہ تجویز کیا گیا ہے۔ ڈان کے مطابق وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے 30 اکتوبر کو ایوان بالا میں بل پیش کیا۔ یہ ابھی قانون نہیں بنا اور اس کی مجوزہ دفعات پارلیمانی منظوری سے مشروط ہیں۔
بل اوگرا آرڈیننس 2002 میں نیا سیکشن 8A شامل کرنے کی تجویز دیتا ہے۔ اس کے تحت قدرتی گیس کا لائسنس رکھنے والا ادارہ ہر سہ ماہی اپنی مجموعی ریونیو ضرورت کا وہ حصہ اوگرا کے سامنے پیش کرے گا جو ویل ہیڈ گیس کی قیمت اور درآمدی گیس، بشمول ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس، کی لاگت سے متعلق ہوگا۔ ریگولیٹر جائزے کے بعد وفاقی حکومت کو مشورہ دے گا اور حکومت کو 30 دن کے اندر مختلف خوردہ صارف زمروں کے لیے کم از کم چارجز اور فروخت قیمتوں کے بارے میں ہدایت دینا ہوگی تاکہ گزٹ نوٹیفکیشن جاری ہو سکے۔
مجوزہ قانون وفاقی حکومت کو یہ اختیار بھی دیتا ہے کہ وہ کسی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا پورا یا جزوی حصہ آئندہ ششماہی تعین میں منتقل کرنے کا مشورہ دے سکے۔ ایک اہم شق کے تحت سیکشن 8A کے تحت مقررہ قیمتوں کی نظرثانی کے لیے اوگرا کی عوامی سماعت نہ رکھنے کی تجویز ہے۔ چونکہ یہ شق صارفین کی شرکت اور ریگولیٹری شفافیت سے متعلق سوالات پیدا کر سکتی ہے، اس کا حتمی اثر بل کی پارلیمانی جانچ اور ممکنہ ترامیم کے بعد ہی واضح ہوگا۔
بل کے اغراض و مقاصد میں کہا گیا ہے کہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا مقصد روپے اور ڈالر کی شرح مبادلہ سمیت مارکیٹ کی تبدیلیوں کو بروقت نرخوں میں منعکس کرنا، قیمتوں کے درست اشارے دینا، گیس شعبے کے گردشی قرض کے مزید جمع ہونے کو محدود کرنا اور سپلائی چین کی مالی و عملی پائیداری بہتر بنانا ہے۔ پاکستان میں گیس نرخ پہلے ہی گھریلو اور صنعتی صارفین کے لیے حساس معاشی مسئلہ ہیں، اس لیے مجوزہ زیادہ کثرت سے قیمت تعین کا نظام پارلیمان اور صارف حلقوں میں بحث کا باعث بن سکتا ہے۔ فی الحال اسے منظور شدہ پالیسی یا نافذ شدہ قیمت تبدیلی سمجھنا درست نہیں؛ یہ سینیٹ میں پیش کیا گیا قانون سازی کا مسودہ ہے۔
